انوارالعلوم (جلد 22) — Page 332
۳۳۲ اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلو انوار العلوم جلد ۲۲ عص ان سے بھی اونچا طوفان بنوں گا۔وہ اگر سمندر کی لہروں کی طرح اُٹھتے تھے تو میں ان سے بھی اونچا اٹھوں گا۔تم جانتی ہو کہ وہ لڑکی جس کے نمبر کلاس میں زیادہ ہوتے ہیں وہ اپنے نمبروں کو چھپاتی نہیں بلکہ ہر ایک کو بتاتی ہے۔نمبروں کا بتانا ایسا ہی ہوتا ہے جیسے انسان کا اپنا منہ دکھانا۔وہ اپنا اندرونہ دکھلاتی ہے اور جس کے نمبر کم ہوتے ہیں وہ ان کو چھپایا کرتی ہے۔پس تاریخ کے پڑھنے سے گریز در حقیقت بُزدلی کی علامت ہے۔ر حقیقت یہ اس بات کی علامت ہے کہ اس شخص کو اپنے مکر وہ چہرے کا پتہ ہے اور اس می کو اپنے آباء واجداد کے حسین چہرے کا بھی پتہ ہے مگر ان دونوں باتوں کے معلوم ہونے کے بعد وہ یہ جرات نہیں رکھتا کہ ایک آئینہ میں دونوں کی اکھٹی شکل دیکھ سکے۔یہاں تک تو میں نے صرف عام پیرا یہ میں اس مضمون کی اہمیت بیان کی ہے اگر مذہبی پہلو لے لو تو تاریخ ہی ایک مسلمان کو بتا سکتی ہے کہ کس طرح ایک ریگستان سے ایک انسان اُٹھا اور اس نے اپنی مقناطیسی قوت سے اپنے ارد گرد کے فولادی ذروں کو جمع کرنا شروع کیا۔پھر تھوڑے ہی عرصہ میں وہ ایک علاقہ میں پھیل گیا پھر ملک میں پھیل گیا پھر زمین کے تمام گوشوں میں پچھے پچھے پر اُس کی جماعت پھیل گئی۔قرآن کریم میں مسلمانوں کا ذکر کرتے ہوئے ایک جگہ ان کا نام بَرَرَہے اور سَفَرَة " رکھا ہے۔یعنی ان کے قدم گھر میں ٹکتے ہی نہیں تھے دُنیا کے گوشوں گوشوں میں پھیلتے جاتے تھے اور جہاں جاتے تھے اپنی خوش اخلاقی اور اعلیٰ درجہ کے چلن کی خوشبو پھیلاتے جاتے تھے۔لیکن گجا وہ پھیلنے والا مسلمان اور گجا آج کا سمٹنے والا مسلمان، گجا وہ زمانہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں فرمایا کہ مردم شماری کرو اور دیکھو کہ اب کتنے مسلمان ہو چکے ہیں۔مردم شماری کی گئی اور گنتی کی گئی اور مسلمان مردوں عورتوں اور بچوں کی تعداد سات سو نکلی۔تم جانتی ہو کہ ربوہ کی آبادی اس وقت اڑھائی ہزار کے قریب ہے گویا وہ تمہاری ربوہ کی آبادی کا ۱/۴ حصہ تھے۔اور یہ وہ مردم شماری تھی جو ساری دُنیا کے مسلمانوں کی تھی کیونکہ اُس وقت مدینہ سے باہر مسلمان بہت تھوڑے تھے سوائے حبشہ کے کہ وہاں کوئی پچاس کے قریب مسلمان ہوں گے یا مکہ میں کچھ مسلمان تھے جو ڈر کے مارے اپنے ایمان کا اظہار نہیں کرتے تھے