انوارالعلوم (جلد 22) — Page 330
انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۳۰ اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلو کالج کی طالبات نے جب مضمونوں کا انتخاب کیا تو ان میں سے اکثر نے تاریخ سے بچنے کی کوشش کی۔یہ بالکل ایسی ہی بات ہے جیسے ہم کسی بچہ سے کہیں کہ آؤ ہم تمہیں تمہارے ماں باپ کا نام بتائیں اور وہ بھاگے۔تاریخ کیا ہے؟ تاریخ تمہیں بتاتی ہے کہ تمہار باپ کون تھا، تمہارا دادا کون تھا، تمہاری ماں کون تھی ، تمہاری نانی کون تھی۔تاریخ تمہیں بتاتی ہے کہ تمہارے آبا ؤ اجداد کیا تھے اور اب تم کیا ہو۔تاریخ سے کسی شخص کا بھا گنا یا اس مضمون کو بوجھل سمجھنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص اپنے آباؤ اجداد کی بات سننے کے لئے تیار نہ ہو۔حالانکہ اگر ڈ نیوی لحاظ سے کوئی مضمون ایسا ہے جس کے حصول کے لئے ہمیں لڑنا چاہئے تو وہ تاریخ ہی ہے۔تاریخ سے بھاگنے کے معنی ہوتے ہیں طبیعت میں مُردہ دلی ہے۔جیسے کمزور آدمی کو زخم لگ جاتا ہے تو وہ کہتا ہے مجھے نہ دکھاؤ میں نہیں دیکھتا میرا دل ڈرتا ہے۔تاریخ سے بھاگنے والی قوم وہی ہوتی ہے جو ڈرپوک ہوتی ہے اور ڈرتی ہے کہ اگر میرے ماں باپ کی تاریخ میرے سامنے آئی اور اس میں میرا بھیا نک چہرہ مجھے نظر آیا اور مجھے پتہ لگا کہ میں کون ہوں تو میرا دل برداشت نہیں کرے۔گا چونکہ وہ سمجھتا ہے کہ اس آئینہ میں میری شکل مجھے نظر آئے گی اس لئے وہ اپنی شکل کے خیال سے اور تصور سے کہ وہ کتنی بدصورت ہوگی اسے دیکھنے سے اجتناب کرنے کی کوشش کرتا ہے یہ بات فطرت انسانی میں داخل ہے کہ وہ اپنے آباؤ و اجداد اور اپنی اولاد اور اپنے رشتہ داروں کو اپنی شکل کا دیکھنا چاہتا ہے۔کئی ماں باپ جن کے ہاں کسی حادثہ یا بیماری کی وجہ سے بدصورت بچے پیدا ہو جاتے ہیں اُن سے اُن کی مائیں بھی نفرت کرنے لگتی ہیں اور وہ بدصورت بچے اپنے دوسرے بھائیوں سے نفرت کرنے لگ جاتے ہیں اس خیال سے کہ یہ ہم سے اچھے ہیں۔اسی طرح جب تاریخ میں انسان اپنے آباء کو دیکھتا ہے کہ اُنہوں نے یہ یہ کارنامے سرانجام دیئے ہیں اور اُن کی یہ شان تھی اور اس کے مقابلہ میں وہ یہ دیکھتا ہے کہ ہم کیا ہیں اور پھر وہ اس چلن اور طریق کو دیکھتا ہے جو اُس نے اور اُس کے ساتھیوں نے اختیار کیا ہوا ہے تو دیانتداری کے ساتھ وہ یہ سمجھنے پر مجبور ہوتا ہے کہ میری غفلت اور میری سحر انگاری اور میری اپنے