انوارالعلوم (جلد 22) — Page 265
انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۶۵ سیر روحانی (۵) سرور سے صحابہ کرام نے حصہ پایا۔خود میں نے متعدد بار رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی اور کئی دفعہ تو آپ ایسی محبت سے آئے ہیں کہ اسے دیکھ کر تمام جسمانی کوفت دُور ہو جاتی رہی ہے۔جن دنوں مصری فتنہ زوروں پر تھا میں ایک رات سخت بے قراری کی حالت میں اپنی رپائی پر کوٹھا تھا اور مجھے سمجھ نہیں آتا تھا کہ میں اس کا کیا علاج کروں۔میں اسی حالت میں تھا کہ یکدم جاگتے جاگتے میں نے دیکھا کہ ایک فرشتہ بچوں کی طرح دوڑتا ہوا آیا اور وہ میرے کندھے پلا کر کہتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہیں یہ سنکر میرے دل میں عجیب کیفیت ہوگئی کہ میرے ساتھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی حالت ہے کہ آپ میری تکلیف کا حال سُن کر برداشت نہیں کر سکے اور آپ خود میری دلجوئی کے لئے تشریف لائے ہیں۔تب میں نے کہا یہ فتنہ لغو ہے اور میں آرام سے سو گیا۔غرض اللہ تعالیٰ کے دروازے ہر شخص کے لئے کھلے ہیں اور جو بھی چاہے وہ ان دروازوں سے گزر کر اپنے مقصد کو حاصل کر سکتا ہے۔روحانی اور مادی علوم یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ تو دیدار الہی کے رستوں کا ذکر ہے ظاہری اور باطنی علوم کے عطا کئے کے متلاشیوں کو خوشخبری جانے کا اللہ تعالٰی نے کہاں وعدہ کیا ہے؟ سو یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے صرف روحانی علوم کے متلاشیوں کو ہی سیر نہیں کیا بلکہ وہ علوم جسمانی اور روحانی دونوں کے متلاشیوں کو خوشخبری دیتا ہے کہ میرے دربار میں آؤ اور اپنے دامن کو گوہر مقصود سے بھر لو وہ فرماتا ہے وَهَدِّينَهُ التَّجْدَين اسے ہم نے انسان کے لئے دونوں علوم کے راستے کھول دیئے ہیں۔ہم نے خدا تعالیٰ تک پہنچنے کا رستہ بھی اس کے لئے کھول رکھا ہے اور ہم نے علومِ جسمانی میں کمال حاصل کرنے کا رستہ بھی اس کے لئے کھول رکھا ہے۔یہ الگ سوال ہے کہ دنیا میں کتنے لوگ ہیں جو اس راستہ پر چل کر علوم حاصل کرتے ہیں۔اصل چیز یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے راستہ کھول دیا ہے اور ہر انسان کے لئے ان علوم