انوارالعلوم (جلد 22) — Page 266
انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۶۶ سیر روحانی (۵) کے حاصل کرنے کا موقع موجود ہے اگر وہ حاصل نہیں کرتے تو اس میں ان کا اپنا قصور ہے۔دنیا میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ سب لوگ کتابیں ایک جیسی پڑھتے ہیں یہ نہیں ہوتا کہ سکولوں اور کالجوں میں بعض لڑکوں کو اور کتابیں پڑھائی جاتی ہوں اور بعض کو اور۔مگر ایک تو سائنس میں ترقی کرتے کرتے انتہائی کمال حاصل کر لیتا ہے اور دوسرا ابھی سائنس کے دروازے پر ہی بیٹھا ہوتا ہے۔ایک اپنی زندگی میں سینکڑوں مفید ایجادات کر لیتا ہے اور دنیا میں چاروں طرف شور مچ جاتا ہے کہ ایڈیسن بڑا موجد ہے مگر دوسرا کوئی ایک چیز بھی ایجاد نہیں کرتا۔اللہ تعالیٰ نے هَدَيْنَهُ التَّجْدَيْنِ میں جس حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے قابلیتیں تمام انسانوں میں پیدا کر دی گئی ہیں اگر وہ ان قابلیتوں سے کام لیں تو وہ علومِ ظاہری اور باطنی دونوں میں کمال حاصل کر سکتے ہیں۔لیکن اگر کوئی اپنی قابلیت سے کام نہ لے تو اس میں خدا تعالیٰ کا قصور نہیں۔جیسے یو نیورسٹی ہر طالب علم کے لئے اپنے دروازے کھول دیتی ہے لیکن یو نیورسٹی کا ہر آدمی آئین سٹائن نہیں بنتا، یونیورسٹی کا ہر آدمی نیوٹن نہیں بنتا۔آئین سٹائن اور نیوٹن وہی بنتا ہے جو اپنی دماغی قابلیتوں کو کام میں لاتا ہے۔اسی طرح یہ روحانی یو نیورسٹی سکھاتی تو ہر شخص کو ہے مگر سیکھتا وہی ہے جو اپنی استعدادوں کو کام میں لاتا ہے اور ان سے فائدہ اُٹھاتا ہے۔تمام مخلوق کی جسمانی ضروریات (۱۰) پھر تمام مخلوق کی جسمانی ضروریات کے متعلق اعلان فرماتا ہے پوری کرنے کا وعده وما من دابة فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللهِ رزْقُهَا وَ يَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا، كُلٌّ فِي كِتَبٍ مُّبِيْنٍ ٣٢ دنیا کی حکومتیں فوڈ ڈیپارٹمنٹ FOOD DEPARTME) قائم کرتی ہیں جس کے سپر د ملک کی غذائی حالت کی نگرانی ہوتی ہے اسی طرح جب کسی دوسرے ملک میں قحط پڑتا ہے یا نا گہانی حوادث سے اُس کی غذائی حالت خراب ہو جاتی ہے تو ایسی صورت میں بھی یہی ڈیپارٹمنٹ اس ضرورت کو پورا کرنے کا کام سرانجام دیتا ہے۔مگر ڈ نیوی حکومتوں کے فوڈ ڈیپارٹمنٹ کیا کرتے ہیں؟ وہ ایک طرف سے بہت ہی سستے