انوارالعلوم (جلد 22) — Page 264
انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۶۴ سیر روحانی (۵) جاتے ہیں میں غریب مسکین اور عاجز انسان اس بزرگ کے قدموں تک کس طرح پہنچ سکتا ہوں تو اپنے فضل سے ایسے سامان پیدا فرما کہ میری ان سے ملاقات ہو جائے۔میں سمجھتا ہوں کہ اس سمن کے بہانے اللہ تعالیٰ آپ کو محض میرے لئے یہاں لایا ہے۔ابھی وہ یہ باتیں ہی کر رہے تھے کہ باہر سے آواز آئی بارش ہو رہی ہے اگر اجازت ہو تو اندر آ جاؤں۔انہوں نے دروازہ کھولا اور ایک شخص اندر آیا۔یہ سرکاری پیادہ تھا۔انہوں نے اس سے پوچھا کہ آپ اس وقت کہاں جا رہے ہیں؟ وہ کہنے لگا بادشاہ کی طرف سے مجھے حکم ملا ہے کہ فلاں بزرگ کے پاس جاؤں اور اُن سے کہوں کہ آپ کو بلانے میں غلطی ہو گئی ہے دراصل وہ کسی اور کے نام سمن جاری ہونا چاہئے تھا مگر نام کی مشابہت کی وجہ سے وہ آپ کے نام جاری ہو گیا اس لئے آپ کے آنے کی ضرورت نہیں۔یہ بات سُن کر وہ اپانج مسکرایا اور اُس نے کہا دیکھا میں نے نہیں کہا تھا کہ آپ کو اللہ تعالیٰ محض میرے لئے یہاں لایا ہے سمن محض ایک ذریعہ تھا جس کی وجہ سے آپ میرے پاس پہنچے یہی بات اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمائی ہے کہ والذینَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُم سبلنا، جو لوگ ہم میں ہو کر اور ہم سے مدد مانگتے ہوئے اپنے مقاصد کے لئے جد و جہد صلی کرتے ہیں ہم اس مقصد کے حصول کے لئے ان پر دروازے کھول دیتے ہیں۔رؤیا و کشوف میں رسول کریم دیکھو! رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو چکے ہیں اور اب آپ کے اور ہمارے درمیان چودہ اللہ علیہ وسلم کی زیارت سوسال کا لمبا عرصہ حائل ہو چکا ہے۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو یہ فضیلت حاصل تھی کہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور آپ کی باتوں کو اپنے کانوں سے سُنا لیکن عشق ہمارے دلوں میں بھی گد گدیاں پیدا کرتا ہے۔ہم زمانہ کے لحاظ سے پیچھے ہیں لیکن عشق کے لحاظ سے پیچھے نہیں چنانچہ باوجود اس کے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ پر صدیاں گزر چکی ہیں پھر بھی خدا تعالیٰ ہمیں خوابوں اور کشوف کے ذریعہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار تک پہنچا دیتا ہے اور ہم بھی اس کیف اور سرور سے اپنے عشق کے مطابق حصہ پالیتے ہیں جس کیف اور