انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 81 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 81

انوار العلوم جلد ۲۲ Al بھیرہ کی سرزمین میں ایک نہایت ایمان افروز تقر اچھا آتا ہوں اور پھر باتوں میں بھول گئے۔تھوڑی دیر کے بعد پھر ایک شخص آیا اور اُس نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ کی بیٹی یاد فرماتی ہیں لڑکے کی حالت زیادہ خراب ہے۔آپ نے فرمایا اچھا آتا ہوں۔تھوڑی دیر کے بعد تیسرا شخص آیا اور اُس نے عرض کی يَا رَسُول اللہ ! جلدی تشریف لائیے لڑکے کی حالت زیادہ خراب ہو گئی ہے۔آپ تشریف لے گئے اور اپنے نواسہ کو گود میں لے لیا۔تھوڑی دیر میں اُس کی جان نکل گئی۔اُس وقت آپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔آپ کے پاس ایک انصاری کھڑے تھے۔انہوں نے کہا آپ خدا تعالیٰ کے رسول ہیں اور رو رہے ہیں ! جس کے معنی یہ تھے کہ بھلا رسول کو جذبات سے کیا تعلق ؟ آپ نے فرمایا خدا تعالیٰ نے ہر انسان کے اندر خواہ وہ رسول ہو یا غیر رسول محبت کے جذبات پیدا کئے ہیں۔اگر خدا تعالیٰ نے تمہیں محبت کے جذبات سے محروم رکھا ہے تو میرے پاس اس کا کیا علاج ہے؟ ۳ غرض آج سے چھپیں ستائیس یا اٹھائیس سال پہلے امتہ الحی مرحومہ سے جب ہم دونوں باتیں کیا کرتے تھے میں نے کہا کہ میں تمہیں تمہارے ابا کے وطن لے جاؤں گا پھر اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ماتحت میں یہاں نہ آسکا اور امتہ الحی مرحومہ فوت ہوگئیں اور جب مجھے بھیرہ آنے کا موقع ملا تو ان کی وفات پر ۲۶ سال گزر رہے ہیں۔پس جو نہی میں بھیرہ میں داخل ہو اوہ باتیں مجھے یاد آ گئیں کہ میں نے امتہ الحی مرحومہ سے ان کے ابا کا وطن دکھانے کا وعدہ کیا تھا لیکن خدا تعالیٰ کی مشیت کے ماتحت جب تک وہ زندہ رہیں مجھے یہاں آنے کا موقع نہ ملا اور جب مجھے یہاں آنے کا موقع ملا تو بھیرے کی بیٹی اور میری بیوی امتہ الحی مرحومہ فوت ہو چکی تھیں۔بہر حال جیسے اللہ تعالیٰ کی مشیت ہوتی ہے اسی طرح ہوتا ہے۔میں امتہ الحی مرحومہ کو بھیرہ لا سکایا نہ لا سکا یہ سب رسمی باتیں ہیں انسان کے اندر محبت کے جذبات ہوتے ہیں جن کی وجہ سے یہ چیز پیدا ہوتی ہے لیکن اگر فلسفیانہ نگاہ سے دیکھا جائے تو یہ کوئی بات نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بدر کی جنگ میں تشریف لے گئے تو جو لوگ قید ہو کر مسلمانوں کے قبضہ میں آئے اُن میں آپ کا ایک داماد بھی تھا جس کو کفار جبر جنگ کے لئے ساتھ لے گئے تھے آپ نے قیدیوں سے کہا تم فدیہ