انوارالعلوم (جلد 22) — Page 80
انوار العلوم جلد ۲۲ ۸۰ بھیرہ کی سرزمین میں ایک نہایت ایمان افروز تقر روحانیت کو سمجھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ اسلام ہی ایک مذہب ہے جو خاوند کو بیوی سے اور بیوی کو خاوند سے محبت کرنے کا حکم دیتا ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بعض دفعہ جس گلاس میں میں پانی پیتی اُسی گلاس میں اُسی جگہ ہونٹ رکھ کر پانی پیتے اور فرماتے میں یہ بتانے کے لئے ایسا کرتا ہوں کہ مجھے تم سے کتنی محبت ہے یا پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ایک دفعہ میرے سر میں شدید درد ہو رہا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔آپ نے فرمایا عائشہ صبر کرو۔لوگ بیمار ہوا ہی کرتے ہیں۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔شدت درد سے مجھے تکلیف ہو رہی تھی اور میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو جو مجھے دین سکھانے کے لئے تھی سمجھ نہ سکی۔مجھے غصہ آ گیا کہ مجھے سر درد ہو رہا ہے اور بجائے اس کے کہ آپ مجھ سے ہمدردی کا اظہار کریں آپ کہتے ہیں کہ صبر کر و لوگ بیمار ہوا ہی کرتے ہیں۔میں نے غصہ سے کہا آپ کو کیا میں مرجاؤں گی تو آپ دوسری شادی کر لیں گے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اُس وقت تکلیف میں کہہ رہی تھیں ہائے میں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری بات سُن کر فرمایا اچھا عائشہ اگر یہ بات ہے تو ہائے تو نہیں ہائے میں سے اور چند دنوں کے بعد آپ بیمار ہو کر فوت ہو گئے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جب تک زندہ رہیں ہمیشہ ہی اس بات پر افسوس کیا کرتی تھیں کہ میں نے یہ فقرہ کیوں کہا جس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صدمہ پہنچا۔گویا میں نے آپ کی محبت پر شبہ کیا۔کاش ! میں یہ فقرہ نہ کہتی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے مر جاتی تا یہ صدمہ نہ دیکھتی۔غرض نا واقف اور جاہل لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ایک مسلمان کے معنی یہ ہیں کہ وہ کوئی پتھر دل کا انسان ہے اور مسلمان وہ ہے جس میں محبت اور وفا کے جذبات نہیں پائے جاتے حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم محبت اور وفا کا مجسمہ تھے۔ایک دفعہ آپ ایک مجلس میں بیٹھے صحابہ سے باتیں کر رہے تھے ایک شخص آیا اور اُس نے کہا یا رَسُول اللہ ! آپ کی بیٹی آپ کو بلا رہی ہے کیونکہ اس کا لڑکا بیمار ہے۔آپ باتوں میں مشغول تھے فرمایا