انوارالعلوم (جلد 22) — Page 82
انوار العلوم جلد ۲۲ ۸۲ بھیرہ کی سرزمین میں ایک نہایت ایمان افروز تقر دو اور رہائی حاصل کرلو۔آپ کے داماد نے کہا میرے ہاں تو کچھ بھی نہیں ہاں مکہ جا کر کچھ انتظام کر دوں گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہت اچھا۔یہ نوجوان ایک شریف الطبع انسان تھا با وجود اس کے کہ لوگ اسے کہتے تم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کو دُکھ دو مگر وہ دُکھ نہ دیتا وہ کہتا تھا میں مسلمان نہیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی عقیدت نہیں رکھتا لیکن پھر بھی میں ان کی لڑکی کو کیوں ماروں۔چنانچہ وہ با وجود دوسروں کے اُکسانے کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کو دُکھ نہیں دیتا تھا۔جب وہ واپس مکے گیا تو گھر میں کوئی چیز نہ تھی جو فدیہ کے طور پر دی جاتی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کے پاس ایک سونے کا ہار تھا جو شادی کے موقع پر والدہ کی طرف سے اُسے دیا گیا تھا۔اُس نے اپنے خاوند کو وہ ہار دے کر کہا یہ ہارلے لو اور اسے فدیہ کے طور پر بھجوا دو۔مسجد میں جا کر جب دوسرے لوگوں نے فدیے پیش کرنے شروع کئے تو ایک شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اُس نے عرض کیا کہ یا رَسُول اللہ ! آپ کے داماد نے یہ ہار بطور فدیہ بھجوایا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ہار پر سے کپڑا اٹھایا تو آپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے آپ تھوڑی دیر خاموش رہے پھر صحابہ رضی اللہ عنہم کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اگر آپ لوگ خوشی سے منظور کر لیں کہ یہ ہار واپس کر دیا جائے تو میں اس کی سفارش کرتا ہوں۔ہار تو ہا رہی ہے مگر اس میں اتنا فرق ہے کہ یہ ہار میری مرحومہ بیوی خدیجہ کے ہاتھ کا تحفہ ہے جو اُس نے اپنی بیٹی کو دیا تھا اور میری بیٹی کے پاس بس یہی ہار اپنی والدہ کی ایک یادگار ہے اس کے سوا اور کوئی یاد گار نہیں مجھے یہ ہار دیکھ کر صدمہ ہوا کہ خاوند کی جان بچانے کے لئے میری بیٹی نے ایک ہی چیز جو اُس کے پاس اپنی والدہ کی یاد گار تھی اُس نے بطور فدیہ بھیج دی ہے۔اگر آپ لوگ خوشی سے اسے معاف کر دیں تو میں یہ ہار واپس کر دوں۔صحابہ کرام تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جانیں قربان کرنے کے لئے تیار تھے ہار کی بھلا حیثیت ہی کیا تھی۔صحابہ نے عرض کیا يَا رَسُول اللہ ! اس سے زیادہ خوشی ہمارے لئے اور کیا ہو گی کہ ہم اس ہار کو جو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اپنی بیٹی کو بطور تحفہ دیا تھا اُسے واپس کر دیں چنانچہ رسول کریم