انوارالعلوم (جلد 21) — Page 516
انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۱۶ اسلام اور ملکیت زمین ہو ہی نہیں سکتے۔ہمارا ملک ان تینوں ملکوں میں سے نہیں اس لئے ہمارے ملک کی صنعت و حرفت تبھی پورے طور پر فائدہ پہنچا سکتی ہے جبکہ اُسے ملک میں ایسے طور پر پھیلایا جائے کہ زمیندار آبادی اپنے کاموں کو چھوڑے بغیر صنعت و حرفت میں مزدوری کر سکے اور اُس کی دلچسپیاں اپنی زراعت کے ساتھ بھی باقی رہیں۔غور کرنے سے کئی قسم کی صنعتیں ایسی نکل آئیں گی جن کو ملک میں پھیلایا جا سکے اور اس کا لازمی نتیجہ یہ بھی ہو گا کہ حکومت کو مجبوراً ذ رائع حمل و نقل کو وسیع کرنا پڑے گا۔(۴) زمینداروں کی مزدوری ایک وجہ زمینداروں کی غربت کی اُن کی مزدوری کے کاموں سے نفرت ہے اور اس کی کے کاموں سے نفرت بڑی وجہ یہ ہے کہ زمیندار خواہ کتنا غریب ہے ہمارے ملک میں اس کے دل میں یہ احساس پیدا ہو گیا ہے کہ وہ سب سے معزز وجود ہے اور مزدور کا نام کمین رکھ دیا گیا ہے۔اب یہ سردار کمین بننے کی طرف کبھی رغبت نہیں کر سکتا۔یہ قومی برتری اور قومی کمتری کے غیر متناہی سلسلے جو ہمارے ملک میں پیدا ہیں جب تک اِن کو بڑے زبر دست پرا پیگنڈہ کے ساتھ ختم نہ کیا جائے گا اُس وقت تک زمیندار کا احساس برتری تو پرورش پاتا جائے گا لیکن وہ اور اُس کا خاندان پر ورش نہیں پاسکے گا۔(۵) زمینوں کے مالکوں کا زمین ایک موجب دوسرے کی زمین ٹھیکہ پر لے کر کاشت کرنے کاشت کرنے والوں سے جابرانہ سلوک والے زمیندارکی کمزوری کا یقیناً یہ بھی ہے کہ بعض بڑے زمیندار اُن پر سختی کرتے ہیں۔پہلے تو یہ بات بہت زیادہ تھی اب بہت کم ہے لیکن اب بھی ایک حد تک بیگار رائج ہے۔اسلامی اصول کے مطابق یہ چیز بالکل ناجائز ہے بلکہ اگر مقاطعہ کی شرطوں میں بھی بیگار داخل ہو تب بھی وہ ناجائز ہے کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر معین مبادلہ کو نا جائز قرار دیا ہے جیسا کہ میں اوپر حدیثوں سے ثابت کر چکا ہوں کی اور بیگار ایک غیر معتین مبادلہ ہے اور علاوہ ظلم کے جوئے کا رنگ رکھتا ہے۔پس حکومت اگر بیگار کو سختی کے ساتھ رو کے یا اُس کو قانون کے ساتھ بند کرے اور اس کے لئے سزائیں مقرر کرے تو یہ بالکل جائز ہوگا۔اسی طرح زمیندار اور اُن کے گماشتے اس بات کو جائز سمجھتے ہیں کہ کھڑے