انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 517 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 517

انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۱۷ اسلام اور ملکیت زمین کھیت میں سے بعض چیزیں لے لیں اور اس کو وہ اپنے اقتدار کی ایک علامت خیال کرتے ہیں یہ بات بھی ناجائز ہے۔جب کسی شخص نے کوئی زمین مقاطعہ پر لی تو جب تک وہ اُس کے پاس ہے اُس وقت تک شریعت اور انصاف کی رُو سے وہ اُس زمین کا ویسا ہی مالک ہے جیسا کہ خود مالک زمین۔اور جب تک کہ فصل شریعت کے احکام کے مطابق تقسیم نہ ہو زمین کے مالک کو ہر گز کسی قسم کے تصرف کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔اسی طرح میں دیکھتا ہوں کہ چھوٹے زمینداروں کو جو زمین مقاطعہ پر دی جاتی ہے اُس کی کے لئے میعاد مقرر نہیں ہوتی۔بسا اوقات زمین کا مالک ناراض ہو کر اگلے ہی سال مزارع کو کی جواب دے دیتا ہے۔چونکہ اس کی مثالیں کثرت سے پائی جاتی ہیں اس لئے مزارع زمیندار اُس زمین کی مستقل پرورش میں دلچسپی نہیں رکھتا۔میرے نزدیک اگر حکومت مزارع زمینداروں اور مالک زمینداروں کے مشورہ کے ساتھ یہ قانون پاس کر دے کہ ہر زمین کا مقاطعہ تین سے چھ سال تک کے لئے ہوگا اس مقررہ عرصہ سے پہلے کسی مزارع زمیندار کو زمین سے بے دخل نہیں کیا جاسکے گا تو یقیناً زمینوں کی حالت پہلے سے اچھی ہو جائے گی اور مالک چی زمیندار کا ظلم بھی کم ہو جائے گا۔جیسا کہ میں اوپر اسلامی لڑیچر کے حوالوں میں درج کر آیا ہوں مالک کو اُس کے ملکیتی حقوق سے محروم نہیں کیا جاسکتا اس لئے دائمی طور پر کسی کسان کو دوسرے کی ملکیتی زمین کا موروثی مزارع نہیں بنایا جاسکتا لیکن فتنہ کو روکنے کے لئے اور مزارع کی محنت کو برباد ہونے سے بچانے کے لئے یقیناً حکومت کو اختیار حاصل ہے کہ وہ اوّل تو با ہمی سمجھوتہ سے کوئی ایسا تصفیہ کر دے یا ایک آزاد کمیٹی مقرر کر کے جس میں دونوں قوموں کے بھی نمائندے ہوں اور حکومت کے بھی نمائندے ہوں وہ ایک ایسا قانون بنا دے جس کی وجہ سے مزارع کو اُس کی محنت کے پھل سے محروم نہ کیا جا سکے۔اور جیسا کہ میں نے لکھا ہے میرے نزدیک تین سے چھ سال تک کی مدت ایسی ہے جس سے کم عرصہ کی صورت میں مزارع اپنے پھل سے محروم ہو جاتا ہے۔مثلاً نوتور ( نو آباد) زمین کی صورت میں جتنی محنت مزارع کو کرنی پڑتی ہے اُس کی قیمت کبھی بھی اُسے ایک دو سال میں نہیں مل سکتی۔دوسرے کھیتی میں کھاد ڈالنا ایک بڑی محنت چاہتا ہے۔اس