انوارالعلوم (جلد 21) — Page 515
انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۱۵ اسلام اور ملکیت زمین سبزی ترکاری ہوتا ہی نہیں اور اُس فائدہ سے محروم ہو جاتا ہے جو سبزی ترکاری کو بونے کی صورت میں اور اس کا کچھ حصہ خود اپنے گھر میں استعمال کر کے وہ اٹھا سکتا تھا اور جس کی وجہ سے اُس کے تمام افراد میں ایک بیداری اور ہوشیاری پیدا ہوسکتی تھی۔(۳) صنعت و حرفت کا کم تیسری وجہ زمینداروں کی حالت کی خرابی کی یہ ہے کہ ہمارے ملک میں صنعت و حرفت کی بہت کمی ہے۔ہونا اور بے موقع ہونا یورپ کے لوگ ہمیں کہتے ہیں کہ تمہارا ملک زراعتی ہے تمہیں زراعت کی طرف توجہ کرنی چاہیے لیکن وہ اس بات کا جواب نہیں دیتے کہ ہم زمین لائیں کہاں سے؟ ہمارا ملک بے شک زراعتی ہے لیکن جتنے آدمیوں سے ہمارے ملک کی کی زراعت کے کام کو چلایا جا سکتا ہے اُس سے زیادہ آدمی ہمارے ملک میں پایا جاتا ہے۔نتیجہ یہ ہے کہ ایک روپیہ کے پیدا کرنے پر بجائے ایک آدمی کے ہمارے دو یا تین آدمی لگے ہوئے ہیں۔اُن دو یا تین آدمیوں کو آسانی کے ساتھ دوسرے کاموں کے لئے فارغ کیا جاسکتا ہے۔مگر اُن کے لئے اور کام کوئی نہیں اس لئے وہ بجائے بے کار بیٹھنے کے اپنے بھائی کے ساتھ اُس کی کا ایک ہی لقمہ بانٹنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔در حقیقت زمین کا بڑھانا یا آدمیوں کا کم کرنا دونوں میں سے ایک قانونِ قدرت کے خلاف ہے اور دوسرا قانونِ شریعت کے خلاف ہے۔پس اس کا علاج جو آج بھی کام دے سکتا ہے ہے اور آج سے ہزار سال بعد بھی کام دے سکتا ہے وہ یہی ہے کہ صنعت و حرفت کو ترقی دی جائے اور صنعت و حرفت کو ایسے طور پر ملک میں پھیلایا جائے کہ زائد زمیندار آبادی آسانی سے اُس طرف متوجہ ہو سکے۔صرف بڑے بڑے شہروں میں صنعت و حرفت کا محدود کر دینا یا تو اُن ملکوں میں ممکن ہوتا ہے جو بہت چھوٹے ہوتے ہیں اور جن کی ساری آبادی سمٹ کر شہروں میں آجاتی ہے۔جیسے انگلینڈ، ہالینڈ اور نجیم۔اور یا پھر ایسے ملکوں میں ممکن ہوتا ہے جہاں صنعت و حرفت اور زمینداری کو متوازی ترقی کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ دونوں آزادانہ ترقی کر سکتی ہیں۔جیسے یونائیٹیڈ سٹیٹس امریکہ ، کینیڈا یا ارجنٹائنا۔یا ایسے ملکوں میں ممکن ہوتا ہے جو ملک یہ فیصلہ کر چکے ہوتے ہیں کہ زمینداری کی طرف توجہ کرنا ہمارے لئے بالکل عبث ہے ہم اس میں کامیاب