انوارالعلوم (جلد 21) — Page 496
انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۹۶ اسلام اور ملکیت زمین آخری نقطہ یہی ہوتا کہ گو ہم کمیونسٹ خیالات سے متاثر ہیں لیکن ہم اُن کی TOTALITARIAN یعنی حاوی کل حکومت کے مخالف ہیں۔اس نظام کے ساتھ انسان کی آزادی ضمیر اور ترقی کی خواہش بالکل کچلی جاتی ہے اور وہ ایک آلہء بے جان ہو کر رہ جاتا ہے۔کوئی عقلمند شخص بھی دنیا میں ایسا نہیں جو اس نکتہ میں کمیونسٹ اصول کے ساتھ متفق ہونے کے بعد کمیونزم سے باہر رہا ہو۔جب کوئی شخص اس نکتہ کو تسلیم کر لیتا ہے تو لازماً پکا کمیونسٹ ہو جاتا ہے کیونکہ کمیونزم کے خلاف انسانی دماغ کے جہاد کی آخری خندق یہی ہے۔اس مورچہ میں کھڑے ہو کر اُسی وقت انسان کمیونزم سے جنگ کرتا ہے جب باقی سارے مورچے کھو چکا ہوتا ہے۔پس وقف اور آزاد اجتماعی کوشش انسانی دماغ کی آزادی کا اُس کی ترقی کے لئے جدو جہد کا آخری سہارا ہے۔اگر یہ سہارا بھی کسی قانون کے ماتحت اُڑا دیا جائے تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ ملک میں کوئی بھی کی آزاد جد و جہد ترقی کے لئے باقی نہ رہے۔سوال یہ نہیں ہوتا کہ حکومت کے موجودہ افراد کس حد تک قابلِ اعتبار ہیں بلکہ سوال یہ ہوا کرتا ہے کہ آیا اس بات کا کوئی ضامن موجود ہے کہ ہمیشہ ہی قابلِ اعتبار لوگ برسراقتدار آتے رہیں گے؟ اور سوال یہ ہوا کرتا ہے کہ موجودہ برسراقتدار لوگوں کے مرجانے یا کسی حادثہ کا شکار ہو جانے یا بریکار ہو جانے یا کسی بات سے خفا ہو کر خود حکومت سے علیحدہ ہو جانے یا کسی سبب سے جو غلط ہو یا درست ملک کے لوگوں کے ان کو حکومت سے الگ کر دینے کے بعد ملک کے آزا دلوگوں میں سے کوئی طبقہ ایسا بھی ہوگا جو اُن کی جگہ لے سکے؟ اور کوئی طبقہ ایسا بھی ہو گا جس نے آزاد فکر اور غور کے بعد ترقی کے لئے مزید راہیں سوچی ہوں گی ؟ یہ امر کبھی بھی حاصل نہیں ہو سکتا جب تک ملک کے مختلف افراد اپنے اپنے نقطۂ نگاہ کے ما تحت آزاد وقفوں اور چندوں کے ذریعہ سے ملک کی ترقی کے متعلق نئے نئے تجارب نہ کرتے رہے ہوں۔پس وقف کے معاملہ پر مرکزی مسلم لیگ زمیندارہ کمیٹی کا روشنی نہ ڈالنا عقلاً ایک بہت بڑا سقم ہے، جیسا کہ شرعاً ایک ناجائز فعل ہے۔اوقاف کے ٹوٹ جانے کے بعد جو اس کی قانون کا لازمی نتیجہ ہے جس کا خلاصہ میں نے پڑھا ہے یقیناً کمیونزم کا مقابلہ کرنے کی کوئی رُوح کی ملک میں باقی نہیں رہے گی اور ملک کا نوجوان جس کی عادت غور کرنے کی ہوگی نہ کہ صرف کتابیں پڑھنے اور اُن پر ایمان لانے کی اس نتیجہ پر پہنچ جائے گا کہ میرے ملک نے کمیونزم کے