انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 495 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 495

انوار العلوم جلد ۲۱ گیارھواں باب ۴۹۵ اسلام اور ملکیت زمین سندھ زمیندارہ کمیٹی اور مسلم لیگ کی زمیندارہ کمیٹیوں کی رپورٹوں کی بعض خامیوں پر عقلی بحث مرکزی مسلم لیگ زراعتی کمیٹی نے جو رپورٹ مسلم لیگ ورکنگ کمیٹی کے پاس کی ہے اُس کا جو خلاصہ میں نے اخباروں میں پڑھا ہے اُس میں علاوہ اُن دینی خامیوں کے جن میں سے بعض کا میں اوپر ذکر کر چکا ہوں مجھے عقلی طور پر بھی ایک خامی نظر آتی ہے اور وہ یہ ہے کہ اُس میں وقف جائیدادوں کا کوئی ذکر نہیں حالانکہ فرض کریں کہ اسلام افراد کے پاس جائیداد میں جائز نہ بھی سمجھتا ہو تو بھی وقف تو اسلام کا ایک ضروری حصہ ہے اور افراد کی تعلیمی اور تربیتی اور مذہبی جد و جہد کے لئے اور اُن کے اندر ترقی کی رُوح قائم رکھنے کے لئے اور ملکی خدمت کا جذبہ پیدا کرنے کے لئے اسلام نے وقف کا اصول تسلیم فرمایا ہے۔شروع اسلام سے برابر وقف ہوتے چلے آئیں ہیں۔خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے ماتحت صحابہ نے وقف کئے اور حضرت طلحہ انصاری اور حضرت عمر خلیفہ دوم نے اس میں حصہ لیا۔اگر وقف کی جائیدادیں بھی چھین کر لوگوں میں تقسیم کر دی جائیں تو قطع نظر اس کے کہ ایسا کرنا شریعت کے خلاف ہوگا۔قومی روح کے بھی خلاف ہوگا۔اس کے یہ معنی ہوں گے کہ ملک میں ایک TOTALITARIAN یعنی حاوی گل حکومت ) حکومت مانعہ کا فہ) ہو جس کے باہر کوئی کی جد و جہد باقی نہ رہے۔حالانکہ جہاں ملک کی ترقی کے لئے اتحا دضروری ہے، جہاں ملک کی ترقی کے لئے حکومتی کاموں کے لئے ایک مرکزی نقطہ کی ضرورت ہے وہاں افراد میں ترقی کی رُوح کو زندہ رکھنے اور بیداری کے جذبات کو اُبھارنے کے لئے انفرادی اور آزاد اجتماعی جد و جہد کا قائم رکھنا بھی نہایت ضروری ہے۔جو لوگ کمیونسٹ خیالات کے ساتھ اتحاد رکھتے ہیں لیکن ابھی کمیونسٹ نہیں ہوئے اُن کا