انوارالعلوم (جلد 21) — Page 497
انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۹۷ اسلام اور ملکیت زمین آگے ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔دوسرا عقلی اور خلاف عدل نقص اس میں یہ ہے کہ اس رپورٹ نے جہاں منڈی سے بہت کم قیمتوں پر زائد زمینوں کی ضبطی کی سفارش کی ہے وہاں اُس نے اس امر کا بالکل خیال نہیں کیا کی کہ اس وقت ملک کی لاکھوں ایکڑ زمین ایسی ہے جو لوگوں نے اپنے باپ دادوں سے ورثہ میں نہیں پائی بلکہ خود انہوں نے حکومت سے یا زیادہ سے زیادہ اُن کے باپ نے حکومت سے قیمت دے کر خریدی ہے۔قطع نظر اس کے کہ علمائے اسلام کا فتویٰ یہ ہے جیسا کہ میں کتاب کے صفحہ ۲ ۱۸ پر لکھ آیا ہوں کہ حکومت کی فروخت کر دہ زمین نہ صرف یہ کہ کلی طور پر اس کے اختیار کی سے باہر چلی جاتی ہے بلکہ وہ زائد ٹیکس سے بھی آزاد ہو جاتی ہے۔عقل اور انصاف بھی اس بات کی کی اجازت نہیں دیتا کہ کوئی شخص آج سوروپے پر ایک چیز فروخت کر کے دوسرے دن انصاف کے نام پر بیس روپیہ پر وہ چیز واپس لے لے۔اوّل تو مالک زمین کی بتائی ہوئی قیمت پر زمین کا مج لینا درست ہو سکتا ہے لیکن انصاف کا ادنیٰ درجہ یہ ہوگا کہ جو قیمت زمین کی حکومت نے خود وصول کی ہے کم سے کم اُس قیمت پر تو زمین واپس لے۔گو اسلام کی رُو سے یہ بھی ناجائز ہوگا۔فقہ حنفیہ میں یہ لکھا ہے الاصل انه متی ملک انسان شيئا ملكا تاما بسبب من الاسباب السابقة لا يجوزان ينتزع منه ما ملكه الا برضاه ولكن قد توجد دواع۔۔۔۔۔۔وهذه الدواعى تنحصر في الحالتين۔۔۔۔۔۔الاولى ان يكون المالك مدينا دينا واجب الاداء وامتنع عن ادائه امتناعا ادى الى رفع الدائن امره الى القاضي وقال الامام ابوحنيفه لا يجوز الحجر على المدين ولابيع املاكه جبرا لان فی ذلک اهداما لادمييه۔۔۔۔۔الــحــالـة الثـانـي ان يـكـون الـمـلـك مـحتـاجـا الـيـه للـمنـافـع العـامـة کحفر الانهار۔۔۔۔۔۔ولم يقبل المالك مختار بالثمن الذى يتفق عليه مع الحكومة يحكم القاضي بنزع ملكيتها جبرا عنه في مقابلة ثمن يقدره الخبراء العادلون ۱۱۵ یعنی اصل حکم تو یہ ہے کہ جب کوئی انسان کسی چیز کا پورا مالک ہو جائے اُن ذرائع سے جن کا ذکر ہم اُوپر کر چکے ہیں ( یعنی ورثہ ، ہبہ ، وقف ، خرید ، لاوارثی جگہ پر قبضہ با اجازت حکومت یا بچشم پوشی حکومت) تو اُس سے اُس کی ملکیت کا اُس کی مرضی کے بغیر چھین لینا ہرگز جائز نہیں