انوارالعلوم (جلد 20) — Page 383
انوار العلوم جلد ۲۰ ۳۸۳ دیباچهتفسیر القرآن نہ دیا گیا۔اہل مکہ کے ظلموں کی شدت کو دیکھ کر آپ نے جب صحابہ کو حبشہ کی طرف ہجرت کر جانے کی اجازت دی اور انہوں نے آپ سے خواہش ظاہر کی کہ آپ بھی ان کے ساتھ چلیں ، تو آپ نے فرمایا مجھے ابھی خدا تعالیٰ کی طرف سے اذن نہیں ملا۔ظلم اور تکلیف کے وقت جب لوگ اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو اپنے ارد گرد اکٹھا کر لیتے ہیں آپ نے اپنی جماعت کو حبشہ کی طرف ہجرت کر کے چلے جانے کی ہدایت کی اور خودا کیلے مکہ میں رہ گئے ، اس لئے کہ آپ کے خدا نے آپ کو ابھی ہجرت کرنے کا حکم نہیں دیا تھا۔خدا کا کلام آپ سنتے تو بے اختیار ہو کر آپ کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے۔خصوصاً وہ آیات جن میں آپ کو اپنی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔چنانچہ عبداللہ بن مسعودؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قرآن شریف کی کچھ آیات پڑھ کر مجھے سناؤ۔میں نے اس کے جواب میں کہا۔يَا رَسُولَ الله! قرآن تو آپ پر نازل ہوا ہے میں آپ کو کیا سناؤں؟ آپ نے فرمایا میں پسند کرتا ہوں کہ دوسرے لوگوں سے بھی قرآن پڑھوا کر سنوں۔اس پر میں نے سورۂ نساء پڑھ کی سنانی شروع کی۔جب پڑھتے پڑھتے میں اس آیت پر پہنچا کہ فَكَيْفَ إِذَا جِتنا من كُلّ أُمَّةٍ بِشَهِيدة جنابِكَ عَلى هَؤُلاء شَهِيدًا ٢٢٣ یعنی اُس وقت کیا حال ہو گا جب ہم ہر قوم میں سے اس کے نبی کو اس کی قوم کے سامنے کھڑا کر کے اس قوم کا حساب لیں گے اور تجھ کو بھی تیری قوم کے سامنے کھڑا کر کے اس کا حساب لیں گے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بس کرو۔بس کرو میں نے آپ کی طرف دیکھا تو آپ کی دونوں آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گر رہے تھے۔۴۲۴ نماز کی پابندی کا آپ کو اتنا خیال تھا کہ سخت بیماری کی حالت میں بھی جبکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے گھر میں نماز پڑھ لینے اور لیٹ کر پڑھ لینے تک کی اجازت بھی ہوتی ہے آپ سہارا لے کر مسجد میں نماز پڑھانے کیلئے آتے۔ایک دن آپ نماز کے لئے نہ آسکے تو حضرت ابو بکر کو نماز پڑھانے کا حکم فرمایا۔لیکن اتنے میں طبیعت میں کچھ سہولت معلوم ہوئی تو فوراً دو آدمیوں کا سہارا لے کر مسجد کی طرف چل دیئے مگر کمزوری کا یہ حال تھا کہ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ چلنے میں آپ کے دونوں پاؤں زمین پر گھسٹتے جاتے تھے۔۴۲۵