انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 382 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 382

انوار العلوم جلد ۲۰ ۳۸۲ ٹانگیں لمبی کر لیا کرتی اور جب آپ سجدہ کرتے تو میں ٹانگیں سمیٹ لیا کرتی۔۳۱۹ مکان اور رہائش میں سادگی رہائشی مکان کے متعلق بھی آپ سادگی کو پسند کرتے تھے۔بالعموم آپ کے گھروں میں ایک ایک کمرہ ہوتا تھا تو اور چھوٹا سا صحن۔اس کمرہ میں ایک رتی بندھی ہوئی ہوتی تھی جس پر کپڑا ڈال کر ملاقات کے وقت میں آپ اپنے ملنے والوں سے علیحدہ بیٹھ کر گفتگو کر لیا کرتے تھے۔چار پائی آپ استعمال کی نہیں کرتے تھے بلکہ زمین پر ہی بستر بچھا کر سوتے تھے۔آپ کی رہائش کی سادگی اس قدر بڑھی ہوئی تھی کہ حضرت عائشہ نے آپ کی وفات کے بعد فرمایا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہمیں کئی دفعہ صرف پانی اور کھجور پر ہی گزارہ کرنا پڑتا تھا یہاں تک کہ جس دن آپ کی وفات ہوئی اُس دن بھی ہمارے گھر میں سوائے کھجور اور پانی کے کھانے کیلئے اور کچھ نہیں تھا۔۴۲۰ خدا تعالیٰ سے محبت اور اُس کی عبادت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری زندگی عشق الہی میں ڈوبی ہوئی نظر آتی کی ہے باوجود بہت بڑی جماعتی ذمہ داری کے دن اور رات آپ عبادت میں مشغول رہتے ہی تھے۔نصف رات گزرنے پر آپ خدا تعالیٰ کی عبادت کے لئے کھڑے ہو جاتے اور صبح تک عبادت کرتے رہتے۔یہاں تک کہ بعض دفعہ آپ کے پاؤں سوج جاتے تھے اور آپ کے دیکھنے والوں کو آپ کی حالت پر رحم آتا تھا۔حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ ایک دفعہ میں نے ایسے ہی موقع پر کہا يَا رَسُولَ الله ! آپ تو خدا تعالیٰ کے پہلے ہی مقرب ہیں آپ اپنے نفس کو اتنی تکلیف کیوں دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا اے عائشہ ! أَفَلَا اَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا - ٢١ جب یہ بات سچی ہے کہ خدا تعالیٰ کا میں مقرب ہوں اور خدا تعالیٰ نے اپنا فضل کر کے مجھے اپنا قرب عطا فرمایا ہے تو کیا میرا یہ فرض نہیں کہ جتنا ہو سکے میں اُس کا شکر یہ ادا کروں ، کیونکہ آخر شکر احسان کے مقابل پر ہی ہوا کرتا ہے۔۴۲۲ آپ کوئی بڑا کام بغیر اذنِ الہی کے نہیں کرتے تھے۔چنانچہ آپ کے حالات میں لکھا جا چکا کی ہے کہ باوجود مکہ کے لوگوں کے شدید ظلموں کے آپ نے مکہ اُس وقت تک نہ چھوڑ ا جب تک کہ خدا تعالی کی طرف سے آپ پر وحی نازل نہ ہوئی اور وحی کے ذریعہ سے آپ کو مکہ چھوڑنے کا حکم