انوارالعلوم (جلد 20) — Page 384
انوار العلوم جلد ۲۰ ۳۸۴ دیباچہ تفسیر القرآن دنیا میں خوشنودی اور توجہ دلانے کے لئے تالیاں پیٹی جاتی ہیں عربوں میں بھی یہی رواج کی تھا مگر آپ کو خدا تعالیٰ کی یاد اور اُس کا ذکر اتنا پسند تھا کہ اس غرض کے لئے بھی ذکر الہی ہی استعمال کرنے کا حکم دیا۔چنانچہ لکھا ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام میں مشغول تھے کہ نماز کا وقت آ گیا۔آپ نے فرمایا ابوبکر ! نماز پڑھا دیں۔پھر کام سے فارغ ہو کر کی آپ بھی فوراً مسجد کی طرف روانہ ہو گئے۔جب نماز پڑھنے والوں کو معلوم ہوا کہ آپ مسجد میں تشریف لے آئے ہیں تو انہوں نے بیتاب ہو کر تالیاں بجانی شروع کر دیں جس سے ایک طرف تو یہ بتا نا مقصود تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے ان کے دل بے انتہاء خوش ہو گئے ہیں اور دوسری طرف ابوبکر کو توجہ دلانا مطلوب تھا کہ اب آپ کی امامت ختم ہوئی اب کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں۔حضرت ابو بکر پیچھے ہٹ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے امام کی جگہ چھوڑ دی۔نماز کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ابوبکر ! جب میں نے تم کو نماز پڑھانے کا حکم دیا تھا تو تم میرے آنے پر پیچھے کیوں ہٹ گئے ؟ ابوبکر نے کہا يَا رَسُولَ الله ! اللہ کے رسول کی موجودگی میں ابو قحافہ کا بیٹا کیا حیثیت رکھتا تھا کہ نماز پڑھائے۔پھر آپ صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا۔تالیاں پیٹنے سے تمہاری کیا تھی غرض تھی۔خدا کے ذکر کے وقت تالیوں کا بجانا تو مناسب معلوم نہیں ہوتا ہے۔جب نماز کے وقت کوئی ایسی بات ہو کہ اُس کی طرف توجہ دلانی ضروری ہو تو بجائے تالیاں بجانے کے خدا کا نام بلند آواز سے لیا کرو۔جب تم ایسا کرو گے تو دوسروں کو اس واقعہ کی طرف خود بخو د توجہ ہو جائے گی۔۴۲۶ مگر اس کے ساتھ ہی آپ تکلف کی عبادت بھی پسند نہیں فرماتے تھے۔ایک دفعہ آپ گھر میں گئے تو آپ نے دیکھا کہ دوستونوں کے درمیان ایک رستی لٹکی ہوئی ہے۔آپ نے پوچھا یہ رشتی کیوں بندھی ہوئی ہے؟ لوگوں نے کہا یہ حضرت زینب کی رہتی ہے جب وہ عبادت کرتے کرتے تھک جاتی ہیں تو اس رتی کو پکڑ کر سہارا لے لیتی ہیں۔آپ نے فرمایا۔ایسا نہیں کرنا چاہئے یہ رشتی کھول دو۔ہر شخص کو چاہئے کہ اتنی دیر عبادت کیا کرے جب تک اُس کے دل میں بشاشت رہے جب وہ تھک جائے تو بیٹھ جائے اس قسم کی تکلف والی عبادت کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔۲۷