انوارالعلوم (جلد 20) — Page 287
انوار العلوم جلد ۲۰ ۲۸۷ دیباچهتفسیر القرآن اصرار کیا کہ ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کو نہیں مانیں گے بلکہ فلاں دوسرے شخص کی کے فیصلہ کو مانیں گے اور اُس شخص نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے اقرار لے لیا کہ جو میں فیصلہ کروں گا اُسے آپ مانیں گے۔اس کے بعد اُس نے فیصلہ کیا بلکہ اُس نے فیصلہ نہیں کیا اُس نے موسی کا فیصلہ دُہرا دیا جس کی اُمت میں سے ہونے کے یہود مدعی تھے۔پس اگر کسی نے ظلم کیا تو یہود نے اپنی جانوں پر ظلم کیا۔جنہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا۔اگر کسی نے ظلم کیا تو موسی نے ظلم کیا جنہوں نے محصور دشمن کے متعلق تو رات میں خدا سے حکم پا کر یہی تعلیم دی تھی۔اگر یہ ظلم تھا تو ان عیسائی مصنفوں کو چاہئے کہ موسی کو ظالم قرار دیں بلکہ موسی کے خدا کو ظالم قراردیں جس نے یہ تعلیم تو رات میں دی ہے۔احزاب کی جنگ کے خاتمہ کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔آج سے مشرک ہم پر حملہ نہیں کریں گے اب اسلام خود جواب دے گا اور ان اقوام پر جنہوں نے ہم پر حملے کئے اب ہم چڑھائی کریں گے۔۲۹۷ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔احزاب کی جنگ میں بھلا کفار کا نقصان ہی کیا ہوا تھا چند آدمی مارے گئے تھے وہ دوسرے سال پھر دوبارہ تیاری کر کے آسکتے تھے۔بیس ہزار کی جگہ وہ چالیس یا پچاس ہزار کا لشکر بھی لا سکتے تھے۔بلکہ اگر وہ اور زیادہ انتظام کرتے تو لاکھ ڈیڑھ کا لشکر لانا بھی اُن کے لئے کوئی مشکل نہیں تھا۔مگر اکیس سال کی متواتر کوشش کے بعد کفار کے دلوں کو محسوس ہو گیا تھا کہ خدا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہے۔اُن کے بت جھوٹے ہیں اور دنیا کا پیدا کرنے والا ایک ہی خدا ہے۔اُن کے جسم صحیح سلامت تھے مگر اُن کے دل ٹوٹ چکے تھے۔بظاہر وہ اپنے بتوں کے آگے سجدہ کرتے ہوئے نظر آتے تھے مگر اُن کے دلوں میں سے لَا إِلهُ إِلَّا الله کی آوازیں اُٹھ رہی تھیں۔