انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 288 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 288

انوار العلوم جلد ۲۰ ۲۸۸ دیباچہ تفسیر القرآن مسلمانوں کے غلبہ کا آغاز۔اس جنگ سے فارغ ہونے کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔آج سے کفار عرب ہم پرحملہ نہیں کریں گے، یعنی مسلمانوں کا ابتلاء اپنی آخری انتہاء کو پہنچ گیا ہے اور اب اُن کے غلبہ کا زمانہ شروع ہونے والا ہے۔اس وقت تک جتنی جنگیں ہوئی تھیں وہ ساری کی ساری ایسی تھیں کہ یا تو کفار مدینہ پر چڑھ کے آئے تھے یا اُن کے حملوں کی تیاریوں کے روکنے کے لئے مسلمان مدینہ سے باہر نکلے تھے لیکن کبھی بھی مسلمانوں نے خود جنگ کو جاری رکھنے کی کوشش نہیں کی۔حالانکہ جنگی قوانین کے لحاظ سے جب ایک لڑائی شروع ہو جاتی ہے تو اس کا کی اختتام دو ہی طرح ہوتا ہے یا صلح ہو جاتی ہے یا ایک فریق ہتھیار ڈال دیتا ہے لیکن اس وقت تک کی ایک بھی موقع ایسا نہیں آیا جبکہ صلح ہوئی ہو یا کسی فریق نے ہتھیار ڈالے ہوں۔پس گو پرانے زمانہ کے دستور کے مطابق لڑائیوں میں وقفہ پڑ جاتا تھا لیکن جہاں تک جنگ کے جاری رہنے کا سوال تھا وہ متواتر جاری تھی اور ختم نہ ہوئی تھی اس لئے مسلمانوں کا حق تھا کہ وہ جب بھی چاہتے کہ دشمن پر حملہ کر کے اُن کو مجبور کرتے کہ وہ ہتھیار ڈالیں۔لیکن مسلمانوں نے ایسا نہیں کیا بلکہ جب وقفہ پڑتا تھا تو مسلمان بھی خاموش ہو جاتے تھے۔شاید اس لئے کہ ممکن ہے کفار درمیان میں صلح کی طرح ڈالیں اور لڑائی بند ہو جائے۔لیکن جب ایک لمبے عرصہ تک کفار کی طرف سے صلح کی تی تحریک نہ ہوئی اور نہ انہوں نے مسلمانوں کے سامنے ہتھیار ڈالے بلکہ اپنی مخالفت اور جوش میں ہے بڑھتے ہی چلے گئے تو اب وقت آگیا کہ لڑائی کا دوٹوک فیصلہ کیا جائے یا تو فریقین میں صلح ہوتی جائے یا دونوں میں سے ایک فریق ہتھیار ڈال دے تا کہ ملک میں امن قائم ہو جائے۔پس ی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احزاب کی جنگ کے بعد فیصلہ کر لیا کہ اب ہم دونوں فیصلوں میں سے ایک فیصلہ کر کے چھوڑیں گے یا تو ہماری اور کفار کی صلح ہو جائے گی یا ہم میں سے کوئی فریق ہتھیار ڈال دے گا۔یہ تو ظاہر ہے کہ ہتھیار ڈال دینے کی صورت میں کفا ر ہی ہتھیار ڈال سکتے