انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 286 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 286

انوار العلوم جلد ۲۰ ۲۸۶ دیباچہ تفسیر القرآن ان قوموں کے شہروں میں جنہیں خداوند تیرا خدا تیری میراث کر دیتا ہے کسی چیز کو جو سانس لیتی ہے جیتا نہ چھوڑیو۔بلکہ تو اُن کو حرم کیجیؤ۔حتی اور اموری اور کنعانی اور فزری اور جوی اور بیوسی کو جیسا کہ خداوند تیرے خدا نے تجھے حکم کیا ہے تا کہ وے اپنے سارے کر یہ کاموں کے مطابق جو اُنہوں نے اپنے معبودوں سے کئے تم کو عمل کرنا نہ سکھائیں اور کہ تم خداوند اپنے خدا کے گنہگار ہو جاؤ“۔۲۹۶ بائبل کے اس فیصلہ سے ظاہر ہے کہ اگر یہودی جیت جاتے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہار جاتے تو بائبل کے اس فیصلہ کے مطابق اول تو تمام مسلمان قتل کر دیے جاتے۔مرد بھی اور عورت بھی اور بچے بھی۔اور جیسا کہ تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ یہودیوں کا یہی ارادہ تھا کہ مردوں ، عورتوں اور بچوں سب کو یکدم قتل کر دیا جائے لیکن اگر وہ اُن سے بڑی سے بڑی رعایت کرتے تب بھی کتاب استثناء کے مذکورہ بالا فیصلہ کے مطابق وہ اُن سے دُور کے ملکوں کی والی قوموں کا سا سلوک کرتے اور تمام مردوں کو قتل کر دیتے اور عورتوں اور لڑکوں اور سامانوں کی کولوٹ لیتے۔سعد نے جو بنو قریظہ کے حلیف تھے اور اُن کے دوستوں میں سے تھے جب دیکھا کہ یہود نے اسلامی شریعت کے مطابق جو یقیناً اُن کی جان کی حفاظت کرتی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کو تسلیم نہیں کیا تو انہوں نے وہی فیصلہ یہود کے متعلق کیا جو موسیٰ نے استثناء میں پہلے سے ایسے مواقع کے لئے کر چھوڑا تھا اور اس فیصلہ کی ذمہ داری محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر یا مسلمانوں پر نہیں، بلکہ موسیٰ پر اور تورات پر اور ان یہودیوں پر ہے جنہوں نے غیر قوموں کے ساتھ ہزاروں سال اس طرح معاملہ کیا تھا اور جن کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رحم کے لئے بلایا گیا تو انہوں نے انکار کر دیا اور کہا ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات ی ماننے کے لئے تیار نہیں ، ہم سعد کی بات مانیں گے۔جب سعد نے موسی کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ دیا تو آج عیسائی دنیا شور مچاتی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظلم کیا۔کیا عیسائی مصنف اس بات کو نہیں دیکھتے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی دوسرے موقع پر کیوں ظلم نہ کیا ؟ سینکڑوں دفعہ دشمن نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رحم پر اپنے آپ کو چھوڑا اور ہر دفعہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو معاف کر دیا۔یہ ایک ہی موقع ہے کہ دشمن نے