انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 521 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 521

عجیب نہیں معلوم ہو تی اور سوال اٹھتا ہے کہ آپ کو بدی سے کیوں نفرت نہ ہو تی جب ایک عظیم الشان قوم کے آپؐ رہبر اور ہا دی تھے اور ہر وقت اپنے متّبعین کوبدیوں سے رو کتے رہتے تھے اور جس کا کام رات دن یہی ہو کہ وہ لوگوں کوبدیوںسے روکے اور امر بالمعروف کرے۔اسے تو اپنے اعمال میں بہت محتاط رہنا ہی پڑتا ہے ورنہ اس پر الزام آتا ہے اور لوگ اسے طعنہ دیتے ہیں کہ تم دوسروں کو منع کر تے ہو اور خود اس کا م کو کرتے ہو لیکن اگر غور کیا جا ئے تو دنیا میں وعظ کہنے والے تو بہت ملتے ہیں مگر ایسے واعظ جو اپنے نمونہ سے دنیا میں نیکی پھیلا ئیں بہت کم ہیں ایسے واعظ تو اس وقت بھی ہزاروں ہیں جو لوگوں کو پا کیز گی اورانقطاع الی اللہ کی طرف بلاتے ہیں۔لیکن کیا ایسے لوگوں کی بھی کو ئی کثیر جماعت پا ئی جا تی ہے جو خود عمل کرکے لوگوں کے لیے خضرراہ بنیں اِلَّا مَاشَآ ءَاللّٰہُ وَاِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ کسی شاعرنے کہا ہے اور بالکل سچ کہا ہے کہ ؎ ہر کسے نا صح برائے دیگراں ہر ایک دوسروں کے لیے ناصح ہے اپنے نفس کا حال بھلائے ہو ئے ہے پھر ایک شاعر کہتا ہے واعظان کیں جلوہ بر محراب و منبر میکند چوں بخلوت میر و ندآں کار دیگر میکند یہ واعظ جو محراب و منبر پر جلوہ افروز ہو کر لوگوں کے لیے ناصح بنتے ہیں جب خلوت میں جا تے ہیں تو ان کے اعمال بالکل اور ہی ہو تے ہیں اور ان اعمال کا پتہ بھی نہیں چلتا جن کاو عظ وہ منبر پر سے کیا کرتے تھے اس وقت مسلمان علماء کو دیکھو۔قرآن شریف کو ہا تھ میں لے کر خشیت الٰہی کے وعظ بڑے زور سے کہتے ہیں لیکن خود خدا کا خوف نہیں کرتے۔پادری انجیل سے یہ روایت لوگوں کو سناتے ہیں کہ دولت مند خدا کی بادشاہت میں داخل نہیں ہوسکتا اگر کو ئی تیری ایک گال پر تھپڑ مارےتو دوسری بھی پھیردے لیکن دولت مند پادری موجود ہیں پھر ان میں سے کتنے ہیں جو ایک گال پر تھپڑ کھا کر دوسری پھیردینی تو درکنار دوسرے مذاہب کے بانیوں کی نسبت بد گو ئی میں ابتداء سے ہی بچتے اور پر ہیز کرتے ہوں۔پنڈت دان اور پن کے متعلق طول طویل کتھا ئیں پڑھ کر لوگوں کو اس طرف مائل کرتے ہیں مگر اپنے آپ کو کسی قسم کے دان پن سے بری سمجھتے ہیں۔غرضیکہ جب روزانہ زندگی کا مشاہدہ کیا جائے تو اکثر واعظ ایسے ہی ملتے ہیں کہ جو کل پندونصائح کو دوسروں کے لیے واجب العمل قراردیتے ہیں مگر اپنے نفوس کو بنی نوع انسان سے خارج کر لیتے ہیں اور ایسے بہت ہی کم ہیں کہ جن کا قول وفعل برابر ہو اور وہ لوگوں کو نصیحت کر تے وقت سا تھ ساتھ اپنے آپ کو بھی ملامت کرتے جا ئیں بلکہ لوگوں کو کہنے سے پہلے اپنے نفس کی اصلاح کریں۔پس گو یہ