انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 522 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 522

بات بظاہر بالکل معمولی معلوم ہو تی ہے کہ واعظ تو بدیوں سے بچتے ہی ہوں گے لیکن دراصل یہ ایک نہایت مشکل اور کٹھن راستہ ہے جس پر چل کر بہت کم لوگ ہی منزل مقصود کو پہنچتے ہیں اور ابتداء دنیا سے آج تک جس قدر واعظ ایسے گزرے ہیں کہ انہوں نے جو کچھ دوسروں کو کہا اس پر خود بھی عامل ہو ئے ان کے سردار اور رئیس ہمارے آنحضرتﷺ تھے آپ کی سا ری زندگی میں ایک بات بھی ایسی نہیں ملے گی کہ آپ کی اور دوسروں کی مصلحتیں ایک ہی ہوں مگر پھر بھی آپؐ نے دوسروں کو اور حکم دیا ہواور اپنے لیے کچھ اَور ہی تجویز کر لیا ہو۔بعض اوقات خود صحابہ ؓچاہتے تھے کہ آپؐ آرام فرمائیں اور اس قدرمحنت نہ کریں لیکن آپؐ قبول نہ فرماتے۔اگر لوگوں کو عبادت الٰہی کا حکم دیتے تو خود بھی کرتے اگر لوگوں کو بدیوں سے روکتے تو خود بھی رکتے غرضیکہ آپ نے جس قدر تعلیم دی ہے ہم بغیر کسی منکر کے انکار کے خوف کے کہہ سکتے ہیں کہ اس پر آپ خود عامل تھے اور شریعت اسلام کے جس قدر احکام آپ کی ذات پر وارد ہو تے تھے سب کو نہایت کو شش اور تعہد کے سا تھ بجالاتے مگر اس وقت جس بات کی طرف خاص طور سے میں آپ کو متوجہ کر نا چاہتا ہوں وہ بدی سے نفرت ہے۔اعمال بد تو انتہا ئی درجہ ہے ادنیٰ درجہ تو بد اخلاقی اور بدکلامی ہے جس کا انسان مرتکب ہو تا ہےاور جب اس پر دلیر ہو جا تا ہے تو پھر اور زیادہ جرأت کر تا ہے اور بد اعمال کی طرف راغب ہو تا ہے لیکن جو شخص ابتدائی نقائص سے ہی پاک ہو وہ دوسرے سخت ترین نقائص اورکمزوریوں میںکب مبتلا ہو سکتا ہے اور میں انشا ء اللہ تعالیٰ آگے جو کچھ بیان کروں گا اس سے معلوم ہو جا ئے گا کہ آپؐ کیسے پا ک تھے اورکس طرح ہر ایک نیکی میں آپؐ دوسرے بنی نوع پر فائق وبرتر تھے۔حضرت عبداللہ بن عمرو ؓفرماتے ہیں لَمْ یَکُنِ النَّبِیُّ صَلیَّ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا وَکَانَ یَقُوْلُ اِنَّ مِنْ خِیَارِ کُمْ اَحْسَنَکُمْ اَخْلَاقًا(بخاری کتاب المنا قب باب صفۃ النبی ﷺ )نبی کریم ﷺ نہ بد خلق تھے نہ بد گو اور فرمایا کر تے تھے کہ تم میں بہتر وہی ہیں جو تم سے اخلاق میں افضل ہوں۔اللہ اللہ !کیا پاک وجود تھا۔آپؐ حسن اخلاق برتتے تب لوگوں کو نصیحت کرتے۔آپ بد کلامی سے بچتے تب دوسروں کو بھی اس سے بچنے کے لیے حکم دیتے اور یہی وہ کمال ہے کہ جس کے حاصل ہو نے کے بعد انسان کا مل ہو سکتا ہےاور اس کی زبان میں اثر پیدا ہو تا ہے اب لوگ چلّا چلّا کر مر جا تے ہیں کو ئی سنتا ہی نہیں۔نہ ان کے کلام میں اثر ہو تا ہے نہ کوشش میں برکت۔اس کی وجہ یہی