انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 604 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 604

انوار العلوم جلد ۱۹ ۶۰۴ مسلمانانِ بلوچستان سے ایک اہم خطاب اعلان کرو کہ اگر کوئی اس طرف آیا تو ہم اُسے گولی مار دیں گے جب تک تم اس قسم کا اعلان نہیں کرو گے لوگوں کے اندر مقابلہ کی روح پیدا نہیں ہوگی۔وہ تمہارے اعلانات کی وجہ سے بزدل اور بھگوڑے بن گئے ہیں مگر میری بات کی کسی نے پرواہ نہ کی۔ہمارا اپنا فیصلہ یہی تھا کہ ہم آخر وقت تک قادیان کو نہیں چھوڑیں گے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے ہزاروں مشکلات کے باوجود میں نے قادیان کو اب تک نہیں چھوڑا مگر ہم یہ بھی سمجھتے تھے کہ کسی طرح اردگرد کے گاؤں کے لوگ بھی بیٹھے رہیں اور اس طرح دشمن کے مقابلہ میں ایک متحدہ محاذ قائم رہے مگر افسوس ہے کہ وہ اپنا علاقہ خالی کر کے آگئے۔بہر حال جب تک دل میں یہ امید ہوتی ہے کہ میرے بچاؤ کی فلاں جگہ موجود ہے اُس وقت تک بزدلی انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتی اور وہ سمجھتا ہے کہ اگر فلاں جگہ میں پہنچ گیا تو دشمن کے حملہ سے بچ جاؤں گا۔پاکستان کے مسلمان کو سمجھ لینا چاہئے کہ باہر کا کوئی اسلامی ملک پانچ چھ کروڑ افراد کو پناہ نہیں دے سکتا اُن کے لئے اب دو ہی صورتیں ہیں یا تو انہیں اس ملک میں رہ کر مرنا پڑے گا یا ہندو اور سکھ بن کر گزارہ کرنا پڑے گا اگر وہ کہتے ہیں کہ باہر کا کوئی اسلامی مُلک اُن کو پناہ دینے کے لئے تیار ہو جائے گا تو وہ اس بارہ میں شدید ترین غلطی کا ارتکاب کرتے ہیں کوئی اسلامی ملک ایسا نہیں جو اتنی بڑی تعداد کو اپنے ہاں پناہ دے سکے لیکن اگر وہ اس ملک میں رہ کر دشمن سے لڑیں گے اور اپنی جانیں قربان کرنے کے لئے تیار ہو جائیں گے تو لڑائی میں دونوں امکانات ہوتے ہیں فتح کے بھی اور شکست کے بھی۔وہ دشمن پر غلبہ بھی پاسکتے ہیں اور عزت اور نیک نامی کے ساتھ اپنی جان بھی دے سکتے ہیں لیکن اگر وہ بھاگے تو ضرور ذلیل ہو نگے اور دشمن کے ہاتھ سے مارے جائیں گے گویا لڑائی میں دونوں باتیں پہلو بہ پہلو ہیں وہ مر بھی سکتے ہیں اور جیت بھی سکتے ہیں لیکن بھاگنے میں جیتنے کا کوئی امکان نہیں اس میں سو فیصدی شکست ہے اور اس میں سو فیصدی ذلت اور لعنت کی موت ہے پس ہمیں اپنے خیالات میں تبدیلی پیدا کرنی چاہئے بیشک لڑائیوں میں لاکھوں انسان مرتے ہیں لیکن دنیا میں کون انسان ہمیشہ زندہ رہ سکتا ہے کون کہہ سکتا ہے کہ میں اتنی مدت تک یقینی طور پر زندہ رہوں گا۔کس کو پتہ ہے کہ اُس کی کتنی زندگی ہے کیا کوئی اتنا بھی کہہ سکتا ہے کہ میں شام تک ضرور زندہ