انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 605 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 605

انوار العلوم جلد ۱۹ مسلمانانِ بلوچستان سے ایک اہم خطاب رہوں گا ؟ جب شام کو ایک شخص ہیضہ سے مرسکتا ہے تو اگر وہ اپنے ملک کی حفاظت کے لئے دشمن سے لڑتا ہوا جان دے دیتا ہے تو اس میں ڈر کی کونسی بات ہے۔کیا ہمارے باپ دادا موت سے بیچ رہے تھے یا اُن کے باپ دادا موت کا شکار نہیں ہوئے تھے؟ یا کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے نہیں مرنا ؟ جب ہمارے باپ دادا اب تک مرتے چلے آئے اور جب ہم نے بھی ایک دن ضرور مرنا ہے تو وجہ کیا ہے کہ ہم ایک ذلیل موت اپنے لئے قبول کریں اور بہادری سے لڑ کر عزت کی موت قبول کرنے کیلئے تیار نہ ہوں۔اگر ہم عزت کی موت مرنا چاہتے ہیں اگر ہم ہندوستان میں اسلام کا جھنڈا ہمیشہ کے لئے سرنگوں کرنا نہیں چاہتے تو یقیناً ہمارا فرض ہے کہ بہادری سے اپنی جان دینے کے لئے تیار رہیں اگر ہم ایسا کریں گے اور اگر اس ارادہ اور نیت سے ہم جان دینے کے لئے تیار ہو جائیں گے کہ ہندوستان میں آخری جگہ جہاں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا قائم ہے ہم سرنگوں نہیں ہونے دیں گے تو میں نہیں سمجھ سکتا کہ خدا یہ بے غیرتی دکھائے کہ وہ ہمیں تباہ کر دے اور دشمن کے ہاتھوں مسلمانوں کو بالکل مٹنے دے۔(ماخوذ از غیر مطبوعہ ریکارڈ خلافت لائبریری) فَإِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْغَلِبُونَ (المائدة: ۵۷) ال عمران: ۳۲ سے اس جگہ سے آگے اس لیکچر کے آخر تک غیر مطبوعہ مواد ہے۔