انوارالعلوم (جلد 19) — Page 603
انوار العلوم جلد ۱۹ لئے اور کوئی صورت نہیں ہوگی۔۶۰۳ مسلمانانِ بلوچستان سے ایک اہم خطاب حقیقت یہ ہے کہ بزدلی اُسی وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان کو بھاگنے کا کوئی راستہ نظر آ رہا ہوتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ میں اس طرح بچ جاؤں گا اگر بھاگنے کا رستہ اُسے نظر نہ آئے تو وہ ہرگز بُزدلی اور دون ہمتی سے کام نہیں لے سکتا۔اس کے متعلق ہمارا اپنا تجربہ ہے میں نے قادیان میں اردگرد کے گاؤں والوں کو کہلا بھیجا کہ تم اپنے اپنے گاؤں میں ہی ٹھہرو اور سکھوں کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرو ہم بھی تمہاری مدد کریں گے اس پر ایک گاؤں والوں نے پیغام بھجوایا کہ اگر آپ دس مسلح آدمی بھجوا دیں تو ہم یہیں ٹھہرنے کے لئے تیار ہیں دوسرے دن میں نے اپنی جماعت کے ایک دوست کو جو ایم ایل اے ہیں اُن کی طرف بھیجا اور اُن سے کہا کہ آپ انہیں میری طرف سے جا کر کہہ دیں کہ ہم اپنے آدمی بھیجنے کے لئے تیار ہیں۔وہ گئے مگر جلدی واپس نہ آئے اس پر مجھے فکر پیدا ہوا کیونکہ اُن دنوں مسلمانوں کا قتل عام ہورہا تھا آخر عشاء کے وقت وہ واپس آئے اور اُنہوں نے بتایا کہ مجھے دیر اس لئے ہو گئی کہ میں جس گاؤں میں بھی جاتا اُسے خالی پاتا پھر آگے جاتا تو اگلے گاؤں میں بھی کوئی آدمی نظر نہ آتا جس گاؤں کی طرف آپ نے مجھے بھجوایا تھا اُسے بھی میں نے بالکل خالی پایا اسی طرح بڑھتے بڑھتے میں بٹالہ تک جا پہنچا وہاں دیکھا کہ تمام گاؤں والے ریفیوجی کیمپ میں ڈیرے ڈالے پڑے ہیں میں نے اُن سے کہا کہ تم نے یہ کیا کیا؟ تم نے تو کہا تھا کہ ہماری مدد کی جائے تو ہم یہاں ٹھہرنے کے لئے تیار ہیں اُنہوں نے جواب دیا کہ ہم تو ٹھہرنے کے لئے تیار تھے مگر ہمیں بٹالہ سے بعض دوستوں نے پیغام بھجوایا تھا کہ مغربی پاکستان کے وزراء روزانہ ریڈیو پر یہ اعلان کر رہے ہیں کہ سکھوں کی زمینیں خالی ہیں جو مسلمان جلدی مغربی پنجاب میں آئیں گے اُنہیں اچھی زمینیں مل جائیں گی اور جو پیچھے آئیں گے وہ محروم رہ جائیں گے اس لئے ہم اپنے گاؤں کو خالی کر کے آگئے۔اور تو اور بٹالہ جو ساٹھ ہزار کی آبادی کا شہر تھا اور جس میں صرف تھوڑے سے سکھ رہتے تھے وہ بھی چند گھنٹوں کے اندر خالی ہو گیا۔سب کے سب مسلمان اپنے گھروں کو چھوڑ کر ریفیوجی کیمپ میں آگئے۔دو دفعہ اپنے آدمی مغربی پنجاب کے وزراء کے پاس بھیجے اور ان سے کہا کہ اس قسم کے اعلانات کر کے تم ہم سے دشمنی کر رہے ہو تم کہو کہ ہم کسی کو مغربی پنجاب میں گھنے نہیں دیں گے