انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 561 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 561

انوار العلوم جلد ۱۹ ۵۶۱ آخر ہم کیا چاہتے ہیں؟ کرشمہ نمائی بھی نہیں کر سکتے ؟ عوام الناس کی نگاہ میں بیشک یہ باتیں ناممکن نظر آئیں مگر ہمارے لیڈروں کی نگاہ میں تو یہ باتیں بالکل معمولی ہونی چاہئیں۔ان ناممکنات کو ممکن بنا دینا تو ان کے دائیں ہاتھ کا کرتب ہے بلکہ ہم تو ان سے یہ امید کرتے ہیں کہ کرایوں کو کم کرنے کا سوال تو الگ رہا پاکستان کی ریلیں پاکستان کے باشندوں کیلئے وقف ہونی چاہئیں۔اتنے گہرے تعلقات کے ہوتے ہوئے کرائے کا سوال اُٹھانا بہت نا مناسب بات ہے۔سب مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اور حکومت تو رعایا کی ماں باپ ہوتی ہے بھائی کا بھائی یا ماں باپ کا بیٹوں بیٹیوں سے کرائے وصول کرنا کتنی ذلیل بات ہے۔پس ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ کرایہ ہو ہی نہیں مگر ریلیں ضرور اچھی ہوں۔انتظام نہایت اعلیٰ ہو اور ریلوے کے ملازمین کو تنخواہیں بڑے معیار پر ملنی چاہئیں۔ہم چاہتے ہیں کہ سب ملازمین ہی کی تنخواہیں زیادہ ہو جائیں کیا مدرس اور کیا سپا ہی اور کیا پولیس مین اور کیا پٹواری اور کیا کلرک سو سو ڈیڑھ ڈیڑھ سو روپیہ تو ان کو کم از کم ملنا چاہئے۔ہاں ہم یہ چاہتے ہیں کہ بڑے لوگوں کی تنخواہیں کم کر دی جائیں۔حساب دان لوگ کہتے ہیں کہ اگر نچلے سٹاف کی سو روپیہ اوسط تنخواہ کر دی جائے تو پچاس کروڑ روپیہ کے قریب خرچ بڑھ جاتا ہے اور اُوپر کے سٹاف کی تنخواہیں کم کر دی جائیں تو ایک کروڑ کے قریب بچت ہوتی ہے۔پس قریباً ۴۹ کروڑ کا فرق رہ جاتا ہے یہ کہاں سے پورا کیا جائے۔اس کے لئے تو ملک پر ٹیکس بڑھانے پڑیں گے لیکن اگر ایسا ہو تو یہ ہماری مرضی کے خلاف ہوگا ہم ہرگز اس بات کے حق میں نہیں کہ ٹیکس بڑھائے جائیں لیکن ہم اس بات کے حق میں ضرور ہیں کہ تنخواہیں بڑھائی جائیں۔باقی رہا ۴۹ کروڑ کا فرق سو یہ معمولی بات ہے یہ وزراء ہیں کس مرض کی دوا۔اگر یہ اتنی بات بھی نہیں سوچ سکتے اگر وہ ہم کو خوش رکھنا چاہتے ہیں ، اگر وہ وزارت کی کرسی پر بیٹھنا چاہتے ہیں تو بغیر ٹیکس بڑھانے کے ان کو تنخواہیں بڑھانی پڑیں گی اور اپنے دماغوں سے کام لے کر یہ روپیہ کہیں سے پیدا کرنا ہوگا۔آخراب پبلک کی حکومت ہے پبلک کی مرضی کے مطابق ان کو کام کرنا چاہئے۔کیا کوئی ملازم اپنے آقا سے کہا کرتا ہے کہ میں یوں نہیں کر سکتا بہر حال اسے کرنا ہی پڑتا ہے۔پس وزراء کو ۴۹ پچاس کروڑ بہر حال کہیں سے پیدا کرنا پڑے گا لیکن ہم سے وصول نہیں۔