انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 562 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 562

انوار العلوم جلد ۱۹ کرنا ہوگا۔۵۶۲ آخر ہم کیا چاہتے ہیں؟ اگر ہم وزیر ہیں تو ہم چاہتے ہیں کہ ہم وزارت کی کرسی پر بیٹھے رہیں اور تمام ملک ہمارا ممنون ہو کہ ہم وزیر بن گئے ہیں۔عقل سے کام لینے کی ہم کو ضرورت نہیں ، محنت سے کام لینے کی ہم کو ضرورت نہیں ، اگر لوگ گھر پر ملاقات کے لئے آئیں تو ہم گھر پر نہیں اور اگر لوگ دفتر میں جائیں تو ہم بیمار ہیں اور کوٹھی سے نہیں نکلے۔لوگوں کو چاہئے کہ ہمارا وقت ضائع نہ کریں ہمیں با ہم ایک دوسرے سے اُلجھنے دیں یا لڑائی بھڑائی کے بعد ہانپنے اور آرام کرنے کا موقع دیں۔یہ کیا کہ ہم ملک کی خاطر ایک دوسرے سے لڑائی جھگڑا بھی کریں اور پھر دوسرے کاموں کے لئے اپنا وقت بھی نکالیں۔ہم نہیں چاہتے کہ لوگ ہمارے پاس سفارش لائیں لیکن ہم یہ ضرور چاہتے ہیں کہ ہم جن افسروں کے پاس سفارش کریں وہ ہماری سنیں کیونکہ ہم آخر وزیر ہیں۔ہم سرمایہ دار ہیں تو ہم چاہتے ہیں کہ سرکاری کارخانوں اور ملازموں کی طرف سے جب تنخواہوں کی زیادتی کا مطالبہ ہو تو اس موقع پر ہمیں ضرور تقریر کرنے کا موقع دیا جائے۔اگر یہ نہ ہو تو کم سے کم مزدور زندہ باد کا نعرہ ہمارا سب کے نعروں سے اونچار ہنا چاہئے۔سٹیج پر سب کو یہ سمجھنا چاہئے کہ ہماری خیر خواہی مزدور کے حق میں سب سے زیادہ ہے مگر ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ ہمارے نو کر کبھی تنخواہ کی زیادتی کا مطالبہ نہ کریں بلکہ غریب طبقہ سے ہماری ہمدردی دیکھ کر اُن کے دل میں محبت کا جذبہ اس قدر اُبھرے کہ وہ خود ہی درخواست کریں کہ اے ہماری جنس کے خیر خواہ ! ہماری تنخواہوں میں کچھ کمی کیجئے اور ہم کو اپنی ممنونیت کے اظہار کا ایک ادنی سا موقع دیجئے۔ہم چاہتے ہیں کہ اسلامی حکومت قائم ہو اور پاکستان کا آئین اسلامی آئین ہولیکن ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ اسلام کے کسی حکم پر عمل کرنے کی ضرورت نہ پیش آئے۔ہم اگر عامی ہیں تو نماز روزہ کا سوال بالکل نہ اُٹھایا جائے۔ہم اگر تعلیم یافتہ ہیں تو ہماری منڈی ہوئی ٹھوڑیوں کو کوئی نہ دیکھے آخر قرآن کریم میں غض بصر کا حکم ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ ہم مغربی لباس پہنیں ، مغربی طریقوں پر بود و باش رکھیں لیکن ہم ساتھ ہی یہ بھی چاہتے ہیں کہ ہم کو سٹیج پر اسلام زندہ باد کا نعرہ لگانے کی اجازت دی جائے لیکن ہم یہ بھی