انوارالعلوم (جلد 19) — Page 560
انوار العلوم جلد ۱۹ ۵۶۰ آخر ہم کیا چاہتے ہیں؟ ہم مشرقی پنجاب اور مغربی پنجاب دونوں کے آدمی چاہتے ہیں کہ ہمارے ملک سے بد دیانتی اور خیانت بالکل مٹ جائے لیکن ہم ساتھ ہی یہ بھی چاہتے ہیں کہ بد دیانتی اور خیانت کا مفہوم یہ سمجھا جائے کہ ہمارے ہوا دوسرے لوگ جو ایسا کام کرتے ہیں وہ بددیانت اور خائن ہیں۔ہم چاہتے ہیں کہ کوئی افسر کسی کی رعایت نہ کرے لیکن ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ اگر ہم اس کے پاس جائیں تو ہماری بات سن لے اور ہماری سفارش کو قبول کر لے۔ہم یہ چاہتے ہیں کہ کوئی پاکستانی ملازم رشوت نہ لے لیکن ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ جب ہم رشوت دیں تو وہ ضرور قبول کرلے ورنہ ہمارا دل میلا ہوگا اور ہمیں یقین نہیں آئے گا کہ وہ ہمارا کام کر دے گا۔ہم اگر حاکم ہیں تو ہم چاہتے ہیں کہ لوگ امن سے رہیں اور کسی کو کوئی کچھ نہ کہے لیکن اگر ہم کسی کو کچھ بھی کہیں تو وہ آگے سے بُرا نہ منائے۔ہم چاہتے ہیں کہ سب ملک کے لوگ آپس میں ایک دوسرے کے خیر خواہ ہوں اور اس بات کو مد نظر رکھیں کہ اگر حکام کسی مصلحت کے ماتحت ہندوؤں اور سکھوں کا مال اپنے گھروں میں ڈال لیتے ہیں تو اُن مالوں کی طرف آنکھ اُٹھا کر عوام الناس نہ دیکھیں کیونکہ اپنے بھائی کے عیب دیکھنا بُرا ہوتا ہے اور پھر وہ یہ بھی تو سوچیں کہ حکام نے ہندوؤں اور سکھوں کا مال لیا ہے اور کا فر کا مال لینا جائز ہے مگر ہم یہ نہیں چاہتے کہ اس اصل کو عوام وسیع کر لیں اور ہندوؤں اور سکھوں کے مال پر خود قبضہ کرنے کی کوشش کریں اگر وہ ایسا کریں گے تو ہم بحیثیت حاکم کے اُن کے ہاتھ پکڑنے پر مجبور ہوں گے اور قانون کے شکنجہ میں اُنہیں باندھ لینا ہمارا فرض ہوگا۔ہم تمام پاکستان کے شہری چاہتے ہیں کہ ہماری ریلوں کا انتظام نہایت ہی اعلیٰ درجے کا ہو، اُن کے اندرصفائی ہو، اچھے گدیلے لگے ہوئے ہوں ، جگہ کھلی ہو بلکہ ہر شخص کو سونے کو جگہ مل جائے ، پانی کا خوب انتظام ہو، گاڑیاں وقت پر چلیں وقت پر ٹھہر میں اور تمام ریلوے ملازمین کو بڑی بڑی تنخواہیں ملیں لیکن ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ کرائے نہ بڑھائے جائیں بلکہ اگر ہو سکے تو کچھ کم کر دیئے جائیں بیشک بظاہر یہ ایک ناممکن سی بات نظر آتی ہے کہ کرائے نہ بڑھائے جائیں اور تنخواہیں بڑھائی جائیں اور ریلوں کو تو اچھا کیا جائے مگر ٹکٹ کی قیمت وہی رہے لیکن آخر قائد اعظم سے جو امیدیں وابستہ تھیں کیا اُن کا اتنا بھی نتیجہ نہیں نکلے گا؟ کیا لیگ کے لیڈر اتنی