انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 559 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 559

انوار العلوم جلد ۱۹ ۵۵۹ آخر ہم کیا چاہتے ہیں؟ ہم یہ ضرور چاہتے ہیں کہ مغربی پنجاب میں ہم جہاں جائیں وہاں کے حکام ہم کو غلہ اور کپڑا وغیرہ بھی دیں اور ہوئی ہوئی فصلیں ہمارے حوالہ کریں اور چھوڑے ہوئے بیل ہمارے سپرد کریں پھر ہم اِن سب چیزوں کو اونے پونے داموں بیچ کر ۳۰، ۴۰ میل آگے جا کے ڈیرا لگالیں اور مہاجر بن کر کسی دوسرے ضلع کی مہمان نوازی کی لذت حاصل کریں۔ہم چاہتے ہیں کہ تمام مغربی پنجاب کے لوگ اس بات کو سمجھ لیں کہ مہاجر کی کیا عزت ہوتی ہے لیکن ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ وہ یہ کبھی نہ سوچیں کہ مہاجر کے فرائض کیا ہوتے ہیں؟ ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ہمیں مہاجر کہ کہ کر سروں پر اُٹھائیں اور آنکھوں پر بٹھا ئیں لیکن ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ مہاجر کے اہم ترین فرائض میں جو یہ بات داخل ہے کہ اُس ملک کو دوبارہ فتح کرے جسے چھوڑنے پر اُسے ظالمانہ طور پر مجبور کیا گیا تھا، یہ فرض ہم سے نہ ادا کر وایا جائے بلکہ ہماری جگہ کوئی اور یہ فرض ادا کرے۔ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ مغربی پنجاب کی نہروں سے فائدہ اُٹھائیں اور اس کی تجارتوں سے متمتع ہوں اور یہ جہاد اور فتوحات کے خیالات ہماری جگہ پر کوئی اور ہمارا بھائی اپنے دماغ میں لئے پھرے اور یہ جوش اپنے سینہ میں دبائے رکھے۔ہم چاہتے ہیں کہ ہماری طرح ہمارے دوسرے مہاجر بھائیوں کو بھی کچھ نہ کچھ زمین اور تجارت میں سے حصہ ملے مگر ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ جتنی زمین یا جتنی تجارت پر ہم نے قبضہ کر لیا ہے اس میں سے ان کو حصہ نہ ملے، اُن کے لئے اللہ تعالیٰ کوئی اور راستہ کھول دے گا اور یا ہمارے لیگ کے لیڈر اور راہ نما کوئی ایسی تدبیر کریں کہ جن اموال کو ہم نے ہتھیا لیا ہے اُس پر ہاتھ ڈالے بغیر کہیں اور سے دوسروں کا گھر پورا ہو جائے۔اگر ایسا ہو جائے تو ہم بھی خوش اور ہمارا خدا بھی خوش۔ہمارے دل میں اپنے مہاجر بھائیوں کی ہمدردی نہ ہوگی تو اور کس کے دل میں ہوگی۔ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان مضبوط ہو اور طاقت پکڑے لیکن ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت کوئی اور لوگ کریں اور اس کے سپاہیوں میں بھی کوئی اور قومیں بھرتی ہوں۔پاکستان کی مضبوطی تو ہم چاہتے ہیں مگر اسی طرح چاہتے ہیں کہ اس کی مضبوطی اوروں کے ہاتھوں ہو۔