انوارالعلوم (جلد 19) — Page 504
انوار العلوم جلد ۱۹ ۵۰۴ سیر روحانی (۴) ایک معزز وکیل سے گفتگو ابھی گزشتہ دنوں میں سندھ میں تھا کہ وہاں ایک وکیل مجھ سے ملنے کے لئے آئے ، وہ پرانے شاہی خاندان میں سے تھے۔باتوں باتوں میں میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کس جماعت سے تعلق رکھتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ میں نوے فیصدی خاکسار ہوں۔میں نے کہا نوے فیصدی کس طرح؟ انہوں نے کہا اس لئے کہ خاکساروں کی باتیں تو میں ٹھیک سمجھتا ہوں لیکن لیڈر پر مجھے بدظنی ہے اس لئے دس فیصدی کی گنجائش میں نے رکھ لی ہے۔پھر میں نے ان سے کہا کہ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ آدم سے لے کر اب تک دنیا میں جب کبھی خرابی پیدا ہوتی رہی ہے کیا اس کا ازالہ کبھی کسی دُنیوی لیڈر نے کیا ہے؟ میں نے کہا آج ہر جگہ مسلمانوں کی حالت خراب ہے آپ ایک مثال ہی مجھے بتا دیں کہ دنیا میں کبھی ایسی خرابی پیدا ہوئی ہو اور اس کے دُور کرنے کے لئے کوئی انجمن قائم کی گئی ہو اور وہ کامیاب رہی ہو یا کسی خود ساختہ لیڈر نے اس کو دور کر دیا ہو۔آخر ہزاروں سال کی تاریخ ہمارے سامنے ہے، آپ بتائیں کہ مثلاً نوح کے زمانہ میں خرابی پیدا ہوئی اور اُس وقت فلاں مجلس کی طرف سے فلاں لیڈر کھڑا کیا گیا اور اس نے اس خرابی کو دُور کر دیا۔یا موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں خرابی پیدا ہوئی اور اسے فلاں فلاں دُنیوی لیڈر نے مٹا دیا۔قرآن کریم جہاں بھی مثال دیتا ہے مامور کی دیتا ہے وہ یہی کہتا ہے کہ ہم نے اپنی طرف سے ایک مامور بھیجا اور اُس نے دنیا کی اصلاح کی۔اگر اس کے خلاف کوئی مثال ہو تو آپ پیش کریں۔کہنے لگے مثال تو کوئی نہیں ، میں نے کہا لوگ خواہ کتنی ٹکر میں ماریں جب بھی عالمگیر خرابی پیدا ہوگی اس کا مداوا خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی ہوگا۔دنیا کی تدبیروں سے دنیا ٹھیک ہو سکتی ہے، حکومتیں بن سکتی ہیں، تعلیمی ترقی حاصل کی جاسکتی ہے، لیکن مذہب کی طرف منسوب کئے ہوئے غلط خیالات سبھی دُور ہو سکتے ہیں جب خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی ما مور مبعوث ہو۔علماء یہ کام نہیں کر سکتے وہ لوگوں کے مقابلہ سے ڈرتے ہیں ان میں یہ جرات ہی نہیں ہوتی کہ وہ کسی ایک مسئلہ ہی کو منوا سکیں، کجا یہ کہ سر سے لے کر پیر تک خرابی واقع ہو چکی اور پھر یہ خیال کیا جائے کہ کوئی عالم یا صوفی یا گدی نشین اس خرابی کو دور کر دے گا۔اب تک خدا تعالیٰ کا یہی طریق نظر آتا ہے کہ اس نے ہمیشہ اپنی طرف سے کسی کو مبعوث کیا اور وہ دنیا کی راہنمائی اور ہدایت کا