انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 503 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 503

انوار العلوم جلد ۱۹ ۵۰۳ سیر روحانی (۴) تعالیٰ روکنا چاہتا ہے ، اس کے حملہ سے محفوظ رکھے وہ ملاء اعلیٰ کی بات نہیں سن سکتے ، ان پر ہر طرف سے پتھراؤ ہوتا ہے اور اس کے علاوہ انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے قائم رہنے والا عذاب ملے گا۔اس کے بعد فرماتا ہے وہ آسمان کی کوئی بات سُن تو نہیں سکتے لیکن اگر کوئی بات اُچک کر لے جائیں تو ان کے پیچھے ایک چمکتا ہو اشہاب جاتا ہے اور انہیں تباہ کر دیتا ہے۔مادی اور روحانی نظام میں شدید مشابہت سیہ امر یا درکھنا چاہئے کہ اس جگہ کواکب سے ظاہری ستارے اور سورج وغیرہ مراد نہیں بلکہ عالم روحانی کے کواکب مراد ہیں جن سے دینی نظام کو مزین کیا گیا ہے۔قرآن کریم کے مطالعہ سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا میں دو نظام پائے جاتے ہیں ایک روحانی نظام ہے اور ایک مادی۔اور ان دونوں نظاموں میں ایک شدید مشابہت پائی جاتی ہے جس طرح زمین کے رہنے والوں کو اپنے سروں پر ایک آسمان نظر آتا ہے اور اس میں ستاروں کا ایک نظام موجود ہے جو اپنے اپنے دائرہ میں کام کر رہے ہیں اور اس نظام کو بدلنے کی کوئی شخص طاقت نہیں رکھتا اسی طرح روحانی نظام بھی اللہ تعالیٰ نے نہایت مضبوط بنیادوں پر قائم کیا ہو ا ہے اور جسمانی نظام کی طرح وہ بھی کئی طبقوں میں منقسم ہے اوپر کے طبقے تو محفوظ ہی ہیں السَّمَاءَ الدُّنْیا جس میں شرارت کا امکان ہوسکتا تھا ، اس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اسے بھی ہم نے ستاروں سے مزین کیا ہے اور اس کے ذریعہ اس آسمان کی حفاظت کی ہے۔ستارے اور چاند جو اس مادی دنیا میں ہمیں دکھائی دیتے ہیں یہ نہ تو گرتے ہیں اور نہ ان کے ذریعہ ایسی کوئی تباہی آتی ہے جو شیاطین کے لئے ہلاکت کا موجب ہوتی ہو۔اس جگہ جن ستاروں کا ذکر کیا گیا ہے ان سے خدا تعالیٰ کے نبی مجد داور نیک بندے مراد ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جن سے روحانی آسمان کی زینت ہے۔یہ لوگ اس لئے کھڑے کئے جاتے ہیں کہ جب شیاطین اس روحانی نظام میں رخنہ ڈالیں تو وہ ان کے مقابلہ کے لئے کھڑے ہو جائیں اور انہیں اپنی کوششوں میں نا کام کر دیں۔آدم سے لے کر اب تک کبھی بھی ظلمت کا کوئی دور ایسا نہیں آیا جس میں خدا تعالیٰ کی طرف سے رُشد اور ہدایت کے لئے کوئی مامور نہ آیا ہو۔