انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 505 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 505

انوار العلوم جلد ۱۹ سیر روحانی (۴) موجب بنا۔یہ تو ہو نہیں سکتا کہ ایسی عالمگیر خرابی کے زمانہ میں خدا ہر شخص کے کان میں آ کر کہے کہ تیرے اندر یہ یہ نقص پایا جاتا ہے۔اس کا طریق یہی ہے کہ وہ ایک ما مور مبعوث فرماتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا پیغام لوگوں تک پہنچاتا ہے۔کچھ لوگ اس پر ایمان لے آتے ہیں اور پھر ان کی تبلیغ کے ذریعہ سے آہستہ آہستہ اور آدمی اس سلسلہ میں داخل ہوتے چلے جاتے ہیں۔عمارت کا کوئی ایک حصہ خراب ہو تو اس کی مرمت کی جا سکتی ہے ، لیکن جب چھت میں بھی نقص پیدا کر دیا جائے دیواروں میں بھی نقص پیدا کر دیا جائے ، فرش میں بھی نقص پیدا کر دیا جائے ، الماریوں میں بھی نقص پیدا کر دیا جائے ، دروازوں میں بھی نقص پیدا کر دیا جائے تو اُس وقت اس کی اصلاح کسی ایسے شخص کے ذریعہ ہی کی جاسکتی ہے جو پورا انجینئر ہو۔عالمگیر خرابی واقع ہونے پر خدائی سنت غرض قرآن کریم بار بار اس مضمون کو بیان فرماتا ہے کہ جب کبھی دنیا میں خرابی واقع ہوتی ہے آسمان سے ایک ستارہ گرتا ہے فرماتا ہے وَالنَّجم إِذَاهَوى مَاضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَاغَوى ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے ثبوت میں ایک ستارہ کو پیش کرتے ہیں جب وہ ستارہ گرے گا دنیا پر ثابت ہو جائے گا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ ضال ہیں نہ غَاوِی اور نہ نَاطِقُ عَنِ الْهَوَى ہیں بلکہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہہ رہے ہیں۔پیشگوئیوں میں استعارات کا استعمال قرآن کریم ایک الہامی کتاب ہے اور الہامی زبان میں نازل ہوئی ہے مگر مسلمانوں کو یہ ایک عجیب غلطی لگی ہوئی ہے کہ وہ الہامی باتوں کا ترجمہ اپنی زبانوں میں کرتے ہیں حالانکہ وہ باتیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہیں یا موسیٰ علیہ السلام کہیں یا عیسی علیہ السلام کہیں بہر حال جب بھی وہ آئندہ کے متعلق کوئی بات کہیں گے پیشگوئی ہی ہوگی اور پیشگوئی تمثیلی رنگ میں ہؤا کرتی ہے دکھایا اور شکل میں جاتا ہے اور ظاہر اور شکل میں ہوتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو رویا میں انگوروں کا ایک خوشہ دیا گیا اور کہا گیا کہ یہ ابوجہل