انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 445 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 445

انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۴۵ قیام پاکستان اور ہماری ذمہ داریاں جانے کی برکت ہے کہ شراب کی عادت جاتی رہی۔پھر میں نے زیادہ سنجیدگی سے اسلام اور احمدیت کا مطالعہ کیا تو حقیقت مجھ پر کھل گئی اور میں نے اسلام قبول کر لیا۔وہاں سے ان کی را ولپنڈی تبدیلی ہوگئی وہاں بھی انگریز اُن کو برا بر تنگ کرتے اور قسم قسم کی تدابیر سے ان کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کرتے مگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ اسلام پر زیادہ سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ قائم ہوتے چلے گئے نمازیں انہوں نے باقاعدگی کے ساتھ شروع کر دیں اور داڑھی بھی رکھ لی۔اس پر انگریز انہیں اور زیادہ تنگ کرتے ، کبھی نماز پر تمسخر شروع کر دیتے یا کبھی داڑھی پر اعتراض کرتے کبھی کھانے پر جھگڑا شروع کر دیتے۔آخر انہوں نے ملا زمت چھوڑ دی اور اپنی زندگی اسلام کے لئے وقف کر دی۔اب وہ انگلستان میں اسلام کی تبلیغ کر رہے ہیں اور محض روٹی کپڑا اُن کو دیا جاتا ہے۔اس شخص کی حالت یہ ہے کہ یہ با قاعدہ تہجد پڑھتا ہے۔نمازیں باجماعت ادا کرتا ہے۔لمبی لمبی دعائیں کرتا ہے منہ پر داڑھی رکھتا ہے اور اس کی شکل دیکھ کر سوائے چہرہ کے رنگ کے کوئی شخص نہیں کہہ سکتا کہ یہ انگریز ہے بلکہ ہر شخص یہی سمجھتا ہے کہ یہ بہت پرانا مسلمان ہے۔اگر یورپ کا رہنے والا ایک شخص اپنے اندر اتنا تغیر پیدا کر سکتا ہے کہ وہ نمازوں کا پابند ہو جاتا ہے، تہجد ادا کرتا ہے اور تمام شعائر اسلامی کو خوشی کے ساتھ اختیار کرتا ہے تو ہندوستان یا کسی اور ملک کا رہنے والا کیوں ان باتوں پر عمل نہیں کر سکتا۔یورپین زندگی ایسی ہے جس میں چاروں طرف مادیت کا غلبہ ہے۔اگر ایسے ماحول میں رہتے ہوئے یورپ کے لوگ اپنے اندر تبدیلی پیدا کر سکتے ہیں تو ہندوستان کی عورتیں اپنے اندر کیوں تبدیلی پیدا نہیں کر سکتیں یا ہندوستان کے مرد اپنے اندر کیوں تبدیلی پیدا نہیں کر سکتے ؟ میرے نزدیک یہ غفلت محض ارادہ کی کمی کی وجہ سے ہے اور اس وجہ سے ہے کہ وہ اپنی موت کو بھول جاتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اکثر انسان یہ سمجھتے ہیں کہ مرنے کے بعد کوئی زندگی نہیں یا وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوتے ہیں کہ جب ہم نے اپنی زبان سے اسلام قبول کر لیا اور ہم نے کہہ دیا کہ ہم محمد رسول اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے ہیں تو نَعُوذُ بِاللهِ ہم نے بڑا بھاری احسان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کر دیا ہے اور اب جنت ہمارے لئے واجب ہو چکی ہے۔اس قسم کے بہانے