انوارالعلوم (جلد 19) — Page 444
انوار العلوم جلد ۱۹ قیام پاکستان اور ہماری ذمہ داریاں جنہیں اس سلسلہ میں شامل ہوئے گوا بھی تھوڑا عرصہ ہی ہوا ہے مگر اس جوش اور اس اخلاص کے ساتھ اسلامی احکام پر عمل پیرا ہیں کہ ان کو دیکھ کر انتہائی مسرت حاصل ہوتی ہے حالانکہ ہندوستانی احمدی اس ماحول میں نہیں رہتا جس ماحول میں ایک یورپین احمدی رہتا ہے۔مگر با وجود اس کے کہ وہ ایک ایسے ماحول میں رہتا ہے جو دینی روح سے کوسوں دور ہے پھر بھی وہ اسلامی حکم پر عمل کرنے میں مسابقت کی روح اپنے اندر رکھتا ہے۔گزشتہ جنگ میں بشیر آرچرڈ ایک انگریز احمدی ہوئے۔پہلے پہل جب وہ قادیان مجھ سے ملنے کے لئے آئے تو اُس وقت اُن کے خیالات اس قسم کے تھے کہ ” میں ایک نیا مذہب نکالوں گا۔انہوں نے بتایا کہ میں نے اسلام کا بھی مطالعہ کیا ہے اور مجھے اس میں کئی اچھی باتیں نظر آئی ہیں اور میں نے ہندو مذہب کو دیکھا تو مجھے اس میں بھی کئی اچھی باتیں نظر آئی ہیں۔میں چاہتا ہوں کہ ایک ایسا طریق نکالوں جس میں تمام اچھی باتوں کو جمع کیا جائے۔میں انہیں سمجھاتا رہا مگر وہ یہی کہتے رہے کہ میری تسلی نہیں ہوئی۔جب وہ یہاں سے چلے گئے تو کچھ عرصہ کے بعد مجھے ان کا خط ملا جس میں لکھا تھا کہ میں اسلام قبول کرتا ہوں۔مجھے حیرت ہوئی کہ یہ کیا بات ہے ، وہ تو کسی مذہب پر خوش نہ تھے۔بعد میں وہ مجھ سے ملنے کے لئے آئے تو انہوں نے تمام واقعات سنائے اور بتایا کہ یہاں رہ کر مجھے احساس نہیں ہوا کہ میں کس فضا میں اپنے دن گزارتا ہوں مگر جب یہاں سے گیا اور امرتسر پہنچا تو چونکہ قادیان میں سات آٹھ دن میں نے شراب نہیں پی تھی اس لئے مجھے شراب پینے کا شوق تھا۔وہاں بعض اور انگریز دوستوں کے ساتھ میں کھانے کے کمرہ میں گیا۔انہوں نے بھی شراب کا آرڈر دیا اور میں نے بھی شراب کا آرڈر دیا مگر پھر مجھے خیال آیا کہ سات آٹھ دن میں نے شراب نہیں پی تو مجھے کچھ نہیں ہوا اگر کچھ دن اور بھی شراب چھوڑ کر دیکھوں تو کیا حرج ہے۔چنانچہ میں نے شراب کا آرڈر منسوخ کر دیا۔یہ پہلی تبدیلی تھی جو میرے اندر واقع ہوئی۔اس کے بعد بھی میں برابر شراب سے بچتا رہا۔فوج میں گیا تو وہاں میرے انگریز دوستوں نے مجھ سے تمسخر شروع کر دیا اور کہا کہ ہم دیکھیں گے کہ تم کب تک شراب نہیں پیو گے۔اس سے میں اور زیادہ پختہ ہو گیا اور آخر رفتہ رفتہ میری ایسی حالت ہوگئی کہ مجھے شراب کی حاجت ہی محسوس نہیں ہوتی تھی۔اس کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ یہ محض قادیان