انوارالعلوم (جلد 19) — Page 446
انوار العلوم جلد ۱۹ قیام پاکستان اور ہماری ذمہ داریاں ہیں جن کی آڑ میں وہ اسلامی احکام پر عمل کرنے سے گریز کرتے ہیں مگر میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ ان بہانوں کا کوئی فائدہ نہیں سچا انسان وہی ہوتا ہے جو اپنے قول کا پاس کرتا ہے۔جب ایک مرد اور ایک عورت کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں تو یہ لازمی بات ہے کہ وہ اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ جو کچھ قرآن مجید حکم دے گا ہم اُسے مانیں گے اور جن باتوں سے قرآن رو کے گا ان سے رکیں گے۔یہ عہد ہے جو ہر مسلمان کرتا ہے مگر کتنے ہیں جو اس عہد کے مطابق عمل کرتے ہیں۔کیا دنیا میں کوئی بھی ملازم ایسا ہو سکتا ہے جو اپنے عہد کی خلاف ورزی کرے اور پھر اس کا آقا اور مالک اس سے خوش رہے۔ایک چھوٹے سے چھوٹا نقص بھی اگر آقا دیکھ لیتا ہے تو وہ ملازم کو سخت تنبیہہ کرتا ہے پھر مسلمان یہ کس طرح امید کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی بھی کرتے رہیں اور اسکی ناراضگی سے بھی بچے رہیں۔ایک مشہور تاریخی واقعہ مجھے یاد آ گیا۔حضرت جنید بغدادی کے ایک شاگر د تھے جو عالم اسلامی میں خود بھی بہت بڑی شہرت کے مالک ہیں۔وہ ایک بڑے خاندان کے فرد اور حکومت وقت کی طرف سے ایک صوبہ کے گورنر مقرر تھے مگر سخت ظالم اور سفاک انسان تھے۔اتنے ظالم کہ سارا علاقہ اُن کے ظلموں سے چلا اٹھا۔ایک دفعہ وہ بادشاہ کے دربار میں حاضر تھے کہ ایک جرنیل بادشاہ کے سامنے پیش ہوا۔اُن دنوں ایران کی مہم درپیش تھی اور بغدادی لشکر کو فتح حاصل ہوئی تھی۔بادشاہ نے اُس جرنیل کو عزت افزائی کے لئے بلوایا تا کہ ایک ایسا ملک جو سالہا سال تک حکومت کے لئے کا نا بنا رہا تھا اس کے فتح کرنے پر اُسے خلعت دے اور انعام سے سرفراز کرے۔جب جرنیل بادشاہ کے سامنے پیش ہوا تو بد قسمتی سے وہ رومال لانا بھول گیا۔اُس روز اُسے نزلہ کی شکایت تھی۔عین اُس وقت جب بادشاہ نے اُسے خلعت پیش کیا اور وہ خلعت پہن کر بادشاہ کے سلام کے لئے آگے بڑھا اُسے چھینک آئی اور ناک میں سے فضلہ بہہ پڑا۔اُس نے جیب ٹولی تو پتہ لگا کہ رومال نہیں۔اس پر اُس نے آنکھ بچا کر اُس خلعت کے دامن سے ہی اپنا ناک پونچھ لیا۔بدقسمتی سے بادشاہ کی نظر اس پر جا پڑی جو نبی اُس نے دیکھا کہ جرنیل نے اُس کی عطا کر دہ خلعت سے ناک پونچھا ہے وہ آگ بگولہ ہو گیا۔اس نے نہایت غصہ سے کہا کہ اس جرنیل نے ہماری خلعت کی ہتک کی ہے خلعت اُتار لو اور اسے ذلیل کر کے