انوارالعلوم (جلد 19) — Page 443
انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۴۳ قیام پاکستان اور ہماری ذمہ داریاں کاموں کو چھوڑ کر جہاد کے لئے روانہ ہو جاتے۔جہاد پر ان کو جتنا وقت صرف کرنا پڑتا تھا اُس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ سال میں ان کو چار پانچ لڑائیاں لڑنی پڑتی تھیں اور ہر لڑائی پر سفر سمیت دو تین ہفتہ یا اس سے بھی زیادہ وقت لگ جاتا۔اس سے تم سمجھ سکتی ہو کہ دنیا کے کاموں کے لئے ان کے پاس کتنا وقت بچتا تھا مگر باوجود اس کے کہ دنیا کی ذمہ داریاں ان پر بھی تھیں، ان کے بھی اہل وعیال تھے ، اُن کی بھی بیویاں اور بچے تھے اور باوجود اس کے ان کا بہت سا وقت جبری طور پر لے لیا جاتا تھا پھر بھی وہ نماز روزہ کی پابندی میں لگے رہتے تھے۔مگر اور لوگ خواہ کچھ کریں میں احمدی خواتین سے کہتا ہوں کہ تم نے نئے سرے سے یہ عہد کیا ہے کہ ہم اسلام کو دوبارہ زندہ کریں گی۔اگر یہ عہد مؤمنانہ ہے منافقانہ نہیں تو تمہیں اس عہد کے مطابق اپنی ساری زندگی ڈھالنی پڑے گی۔اسلام پہلے ہی دشمنوں کی نگاہ میں زیر الزام ہے، اسلام پہلے ہی دشمنوں کے تیروں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے، اسلام پہلے ہی ہزاروں قسم کے مطاعن اور اعتراضات کا ہدف بنا ہوا ہے ، اگر تم نے بھی کمزوری دکھائی تو تم اسلام کو اور زیادہ بد نام کرنے والی بنو گی۔اگر تم واقعہ میں اسلامی تعلیم پر عمل نہیں کر سکتیں تو بجائے اس کے کہ تم اسلام کے لئے بدنامی کا موجب بنو تمہارے لئے بہتر ہے کہ تم اس سلسلہ کو چھوڑ دو لیکن اگر واقعہ میں تمہیں یقین پیدا ہو چکا ہے کہ یہ سلسلہ سچا ہے اور تم رسمی طور پر نہیں بلکہ حقیقی طور پر سمجھتی ہو کہ خدا تعالیٰ کی بھیجی ہوئی صداقت کو تم نے دیکھ لیا ہے اور سمجھ لیا ہے اور اس پر ایمان رکھنا تمہاری نجات کے لئے ضروری ہے تو تمہارا فرض ہے کہ تم سلسلہ کی بدنامی کا موجب نہ بنو، بلکہ اپنے ایمان اور اپنے عمل اور اپنی قربانیوں اور اپنی للہیت کے ثبوت کے ساتھ اسلامی زندگی کا وہ نمونہ پیش کرو جس کو دیکھ کر ہر شخص اس حقیقت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو جائے کہ اس کا روباری زمانہ میں بھی جب دین پر دنیا کو مقدم کیا جا رہا ہے، اسلام پر عمل کیا جا سکتا ہے اور اس کا کوئی حکم ایسا نہیں جو انسان کے لئے بوجھ کا رنگ رکھتا ہو۔مجھے تعجب آتا ہے بعض ہندوستانی احمدیوں پر کہ انہیں سالہا سال اس سلسلہ میں شامل ہونے پر گزر گئے مگر ابھی تک وہ دینی احکام پر عمل کرنے میں سستی سے کام لیتے ہیں اور ان کی روحانیت پر ایک جمود کی سی کیفیت طاری ہے۔اس کے مقابلہ میں بعض یورپین احمدی ایسے ہیں