انوارالعلوم (جلد 19) — Page 313
انوار العلوم جلد ۱۹ الفضل کے اداریہ جات وہ واپس آ کر پھر اپنے کام سنبھال لیں اور لیگ اور حکومت پنجاب کے ذمہ دار حکام اپنی پرائیویٹ مجلسوں میں اس بات کا اقرار کر رہے ہیں بلکہ بعض تو پلیٹ فارم پر بھی اس کا اعلان کر چکے ہیں کہ ہندوؤں نے پھر آ کر کام شروع نہ کیا تو پاکستان کی مالی حالت بالکل تباہ ہو جائے گی۔ایک طرف تو یہ حالت ہے کہ جو کام پہلے سے چل رہے تھے انہی کو سنبھالا نہیں جا سکتا اور وہ خلا جو ہندوؤں کے بھاگ جانے سے پیدا ہو چکا ہے اُس کا ۱۰۰ را حصہ بھی اس وقت تک پر نہیں ہوا۔بنکوں کی بزنس رُکی ہوئی ہے لوگ چیک لئے پھرتے ہیں اور اُن کو توڑنے والا کوئی نہیں۔بنک شکایت کرتے ہیں کہ ہمیں ٹرینڈ آدمی نہیں مل رہے۔کارخانوں والے رور ہے ہیں کہ اوّل تو مشینری لوگوں نے اِدھر اُدھر کر لی ہے دوسرے کارخانوں کے نام بدل کر جھوٹی فہرستیں تیار کر لی گئی ہیں۔اصل کارخانہ کا سامان تو اِدھر اُدھر کر دیا گیا ہے، جھوٹے نام کا کارخانہ جب انڈسٹریل ڈیپارٹمنٹ کسی کو تقسیم کرتا ہے تو وہاں انسٹرکٹر آف انڈسٹریل لکھ دیتا ہے کہ اس نام کا کوئی کا رخانہ ہے ہی نہیں۔دو مہینے خراب کرنے کے بعد یہ جواب جتنا دل شکن اور ساتھ ہی آنکھیں کھولنے والا ہے اس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔جو بے چینی ان حالات سے پیدا ہو رہی ہے اس کا علاج نئی نئی سکیموں سے کرنا بالکل غلط طریق اور قوم کے لئے مہلک ہے۔پہلے اُن رخنوں کو بھرنا چاہئے جو ملک کی اقتصادی حالت میں پیدا ہو چکے ہیں۔جو کارخانے اور جو صنعتیں اور جو تجارتیں ہندوؤں کے پاس تھیں اگر وہ مسلمان سنبھال لیں اور صحیح طور پر ان کے ٹیکسوں کی تشخیص ہو جائے تو صوبہ جاتی حکومتوں اور مرکزی حکومت کی مالی حالت نہایت ہی شاندار ہو جاتی ہے۔اس وقت صنعتی کارخانوں کو ملکی اور قومی بنانے کی سکیمیں ایسی ہیں جیسا کہ کسی شخص کا مکان ٹپک رہا ہو اور وہ بجائے چھت پر تین چار ٹوکریاں مٹی ڈال کر اپنے بیوی بچوں کو اور اپنے اسباب کو ضرر سے بچانے کے کسی انجنیئر کی طرف دوڑ جائے کہ ہم آئندہ ایک کوٹھی تیار کریں گے اس کا نقشہ کیسا ہونا چاہئے اور کس کس قسم کا میٹریل اس میں ہونا چاہئے۔جو کچھ خدا نے دے رکھا ہے پہلے اُس کو سنبھا لو وہ ہاتھوں سے نکل رہا ہے اور اقتصادی نظام تہہ و بالا ہو رہا ہے۔جو کام ہندو افراد آج سے پہلے پنجاب میں کر رہے تھے اور جو یورپین کاموں کے مقابلہ میں کوئی بھی حیثیت نہیں رکھتا جب وہی کام نہیں سنبھالا جا سکتا تو آئندہ ان کی