انوارالعلوم (جلد 19) — Page 238
انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۳۸ الفضل کے اداریہ جات سکتا ہے اور پاکستانی فوج کا کام بہت آسان ہو جاتا ہے۔ہمارے نزدیک ٹیر ٹیوریل فورس اور فوجی کلبوں کے قیام میں بالکل دیر نہیں کرنی چاہئے۔فوج کے مہیا کرنے کا یہ ایک بہترین اور سهل ترین ذریعہ ہے اس کا انتظام کلی طور پر فوج کے محکمہ کے ماتحت ہونا چاہئے اور سول محکموں کا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہونا چاہئے تا کہ دو عملی پیدا نہ ہوا اور فوج کو سیاسی مسائل سے بالکل الگ رکھا جا سکے۔ہمارے پاس سپاہیوں کا ایک وسیع مخزن ہے اگر اس وسیع مخزن کو استعمال نہ کیا گیا اور وقت پر اسے کام میں لانے کے لئے کوشش نہ کی گئی تو یہ پاکستان سے غداری ہوگی اور ذمہ دار لوگوں کا یہ قصور قوم کبھی معاف نہیں کر سکے گی۔ذمہ دار لوگوں کو یہ خوب اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ قوم کی جہالت سے فائدہ نہیں اُٹھایا جا سکتا۔ایک وقت میں اگر قوم جاہل ہو اور اپنے فوائد کونہ بجھتی ہو تو دوسرے وقت میں وہ بیدار اور ہوشیار بھی ہو سکتی ہے۔اس بیداری اور ہوشیاری کے زمانہ میں وہ ہرگز یہ عذر نہیں سنے گی کہ چونکہ ہم غافل اور حالات سے جاہل تھے اس لئے ہمارے ذمہ دار حکام نے کام کو صحیح طریقوں پر نہیں چلایا وہ اپنے ذمہ دار افسروں پر یہ اعتراض کرے گی کہ اگر ہم غافل اور جاہل تھے تو تمہاری ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی تھی۔جب تو میں ہوشیار ہوتی ہیں تو وہ اپنے حقوق کی خود نگہداشت کر لیتی ہیں لیکن تربیت تنظیم کی طرف سے جب قو میں غافل ہوتی ہیں تو ملک کے افسروں کی ذمہ داری بہت بڑھ جاتی ہے اور ان کا فرض ہوتا ہے کہ وہ ان ذمہ داریوں کو خود بھی ادا کریں جو بیدار قو میں حکومت کی مدد کے بغیر ادا کرتی ہیں۔( الفضل ۱۷ اکتوبر ۱۹۴۷ ء )