انوارالعلوم (جلد 19) — Page 237
انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۳۷ الفضل کے اداریہ جات دوسرے سپاہیوں سے بہتر ثابت ہوں گی کیونکہ انسان ہمیشہ درندوں پر فوقیت رکھتا چلا آیا ہے۔شراب کے نشہ میں مخمور ہو کر لڑنے والا سپاہی اور شراب کو چھوئے بغیر اپنی جان کو خطرہ میں ڈالنے والا سپاہی مساوی نہیں ہو سکتے دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔پس ہمارے لئے امیدوں کا ایک وسیع دروازہ کھلا ہے، ہماری ترقی کی راہیں بہت زیادہ کشادہ اور بہت دور تک جانے والی ہیں کیونکہ ہمارے دشمن نے وہ تمام ذرائع استعمال کر لئے ہیں جو اس کی ترقی میں مدد دے سکتے تھے مگر ہمارے خزانے ابھی زمین میں مدفون ہیں جب ہم وہ تمام ذرائع استعمال کر لیں گے جن سے ایک اچھا سپاہی بہت ہی اچھا بنایا جا سکتا ہے تو ہما را سپاہی یقیناً دوسری قوموں کے سپاہی سے بہت اچھا ثابت ہوگا۔اس مظاہرہ کے دیکھنے والوں کے لئے ایک اور امر بھی نہایت خوشی کا موجب تھا لاکھوں مسلمان اس مظاہرہ کو دیکھنے کے لئے میلوں میل سڑکوں پر کھڑے تھے ان میں سے اکثر نوجوان تھے جن کے جسموں کی بناوٹ اور جن کی آنکھوں کی چمک بتا رہی تھی کہ وہ سب یا ان میں سے اکثر سپاہی ہونے کی قابلیت رکھتے ہیں یہ میلوں میل لمبا انسانوں کا مجموعہ ہندوؤں اور سکھوں کے وجود سے گلی طور پر خالی تھا۔اس میں مسلمان ہی مسلمان تھے گوا کثر کے سر ننگے تھے بہتوں کپڑے بوسیدہ تھے لیکن پھر بھی جو اختلاف ایسے مجمعوں میں پہلے زمانوں میں نظر آتا تھا ، ان میں نظر نہ آتا تھا۔وہ مرجھائے ہوئے چہرے اور ڈرتی ہوئی آنکھیں جو دوسری اقوام کے اختلاف کی وجہ سے بڑے مجمعوں کی خوبصورتی کو خراب کر دیا کرتی تھیں وہ کل مفقود تھی۔مجمع کا ہر شخص سپاہی بننے کے قابلیت رکھتا تھا اور آئندہ ہونے والا سپاہی نظر آتا تھا۔اگر ان نوجوانوں کی صحیح تربیت کی جائے اور ان کے اخلاق کو بلند کیا جائے اور ٹیر ٹیوریل فورس کے اور فوجی کلبوں کے ذریعہ سے جن کا ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں ، ان کو ملک کی فوجی خدمت میں حصہ لینے کا موقع دیا جائے تو یقیناً لا ہور ہی سے ایک لاکھ پاکستانی سپاہی پیدا کیا جا سکتا ہے۔لاہور کے ضلع کی سرحد جو ہندوستان سے ملتی ہے ، وہ پچاس میل کے قریب ہوگی۔اگر لاہور سے اتنا سپاہی پیدا ہو جائے تو لاہور، قصور، اور چونیاں کی تحصیل سے بھی یقیناً پچاس ساٹھ ہزار سپاہی مل سکتا ہے۔ان سپاہیوں کے ذریعہ سے نہ صرف لاہور کی حفاظت کی جاسکتی ہے بلکہ سارا پاکستانی ملک محفوظ ہو