انوارالعلوم (جلد 19) — Page 239
انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۳۹ الفضل کے اداریہ جات بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ کشمیر اور حیدر آباد حیدر آباد اور کشمیر کے حالات بالکل ایک سے ہیں۔حیدر آباد کے والی مسلمان ہیں وہاں کی آبادی کی اکثریت ہندو ہے یعنی قریباً ۸۵ فیصدی ہندو اور ۱۵ فیصدی مسلمان۔جاگیردار زیادہ تر مسلمان ہیں اور تجارت میں مسلمانوں کا کافی حصہ ہے۔یہ ملک بہت وسیع ہے پونے دو کروڑ کے قریب اس کی آبادی ہے اور ملک کی آمد ۲۵ کروڑ روپیہ سالانہ ہے۔کشمیر کا حال اس کے الٹ ہے کشمیر کا رقبہ حیدر آباد سے بھی زیادہ ہے لیکن آبادی صرف چالیس لاکھ ہے آبادی کے لحاظ سے کشمیر کی ریاست ہندوستان میں تیسرے نمبر پر ہے۔دوسرے نمبر پر میسور ہے جس کی آبادی ۷۳ لاکھ ۲۸ ہزار ہے۔صنعت و حرفت اور جنگلات اور جڑی بوٹیوں کے لحاظ سے کشمیر حیدر آباد پر بھی فوقیت رکھتا ہے۔پھلوں کی پیداوار اور یہاں کی تجارت سارے ہندوستان میں اول نمبر پر ہے۔اس کی سرحدیں چونکہ روس سے ملتی ہیں اس لئے سیاسی طور پر یہ ایک نہایت ہی اہم مرکز ہے پنجاب کے ساتھ ساتھ اس کی سرحدیں پانچ سو میل تک لمبی چلی گئی ہیں۔اگر کشمیر انڈین یونین میں چلا جائے تو پنجاب کا دفاع قریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔حیدر آباد کے برخلاف کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت ہے اور راجہ ہندو ہے مسلمان ۸۰ فیصدی اور ہند و ۲۰ فیصدی ہیں۔اس وقت یہ دونوں ریاستیں محل نزاع بنی ہوئی ہیں حیدر آباد بھی پوری آزادی کا مطالبہ کرتا ہے اور کشمیر بھی پوری آزادی کے ارادے ظاہر کر چکا ہے۔بعد کے حالات نے دونوں ریاستوں کے ارادوں میں تذبذب پیدا کر دیا ہے۔حیدر آباد اور کشمیر دونوں محسوس کر رہے ہیں کہ اقتصادی دباؤ سے ان دونوں حکومتوں کو تباہ کیا جا سکتا ہے اس لئے لازمی طور پر ان کو کوئی نہ کوئی سمجھوتہ ہندوستان یا پاکستان سے کرنا پڑے گا۔کشمیر کی سرحدیں چونکہ دونوں ملکوں سے ملتی ہیں۔ہندوستان سے کم اور پاکستان سے زیادہ اس لئے بوجہ اس کے کہ اس کا راجہ ہندو ہے اس