انوارالعلوم (جلد 19) — Page 179
انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۷۹ الفضل کے اداریہ جات بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ پاکستان کی سیاست خارجہ ہم آج ایک ایسے اہم مضمون کی طرف اپنے اہل وطن کی توجہ پھرانا چاہتے ہیں جو پاکستان کے لئے زندگی اور موت کا سوال ہے۔پاکستان کی حکومت بالکل نئی نئی بنی ہے اور ابھی اس کے دفاتر کا چارج تجربہ کار آدمیوں کے ہاتھوں میں نہیں اس وجہ سے اس کے کاموں میں بعض دفعہ ایسی خامیاں رہ جاتی ہیں جو پاکستان کی حکومت کی مضبوطی میں خلل ڈالتی ہیں اور ان کا دور کرنا پاکستان کی حکومت کے ثبات کے لئے نہایت ضروری ہے۔ان خامیوں میں سے ایک ہمارے نزد یک سیاست خارجہ کی پالیسی ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سیاست خارجہ کے دفتر میں ابھی ماہرین فن موجود نہیں اور ایسے آدمیوں کی کمی ہے جو انٹر نیشنل لاء کے جاننے والے ہوں۔اس وجہ سے پاکستان حکومت اس وقت ایک لاوارث وجود کی صورت میں نظر آتی ہے۔کئی واقعات ایسے ہوتے ہیں کہ جن سے پاکستانی حکومت کے حقوق کو تلف کیا جاتا ہے لیکن پاکستان کی حکومت کی طرف سے کوئی مؤثر قدم اُٹھانا تو الگ رہا ان کے خلاف پروٹسٹ تک بھی نہیں کیا جاتا حالانکہ اخلاقی اور سیاسی اصول میں فرق ہے۔حکومت کا کام صرف یہی نہیں ہوتا کہ وہ اخلاقی اصول کی پیروی کرے اس کا کام یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنے حقوق کی حفاظت کرے۔حضرت مسیح ناصری فرماتے ہیں کہ اگر کوئی تیرے ایک گال پر تھپڑ مارے تو تو اپنا دوسرا گال بھی اس کی طرف پھیر دے۔اگر کوئی تیری چدر مانگے تو اسے کر نہ بھی دے دے اور اگر کوئی تجھے ایک میل تک بیگار لے جائے تو تو دومیل تک اس کے ساتھ چلا جا۔یہ ایک اخلاقی تعلیم ہے اور بعض حالتوں میں ضروری اور بعض دوسری حالتوں میں مضر۔اسی لئے اسلام نے اس تعلیم کو تسلیم نہیں کیا بلکہ مختلف حالات میں مختلف قسم کی تعلیم دی ہے لیکن اخلاقی طور پر خواہ یہ تعلیم بعض وقتوں میں مفید اور ضروری بھی ہوتی ہو سیاسیات میں اس پر عمل نہیں کیا جا سکتا کیونکہ سیاسیات کا اصول