انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 180 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 180

انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۸۰ الفضل کے اداریہ جات یہ ہے کہ اگر کوئی قوم اپنے کسی حق کو بغیر احتجاج کے چھوڑ دیتی ہے تو بین الا قوامی اصول کے مطابق یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس قوم نے وہ حق ہمیشہ کے لئے چھوڑ دیا ہے اس لئے جب کبھی حکومتوں کے معاملہ میں ایسا واقعہ پیش آتا ہے کہ کوئی قوم کسی دوسری قوم کا حق تلف کرتی ہے تو خواہ مظلوم قوم اپنا حق زور سے نہ لے۔خواہ اس کا بدلہ مانگے ہی نہ، وہ قانونی طور پر اپنے نمائندوں کے ذریعہ سے اس کے خلاف احتجاج ضرور کر دیتی ہے تا کہ وہ ظلم آئندہ دوسری قوم کا حق نہ سمجھ لیا جائے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے حقوق پاکستانی حکومت کے تلف ہو رہے ہیں لیکن ان کے خلاف احتجاج بھی نہیں کیا جا رہا۔ہندوستان اور پاکستان میں یہ معاہدہ ہوا تھا کہ ایک دوسرے کے پناہ گزین جب دوسرے ملک میں جائیں گے تو ان کے سامان کی تلاشی نہیں لی جائے گی۔اس معاہدہ کے خلاف بعض جگہ پر پاکستان کے افسروں نے پناہ گزینوں کی تلاشیاں لیں اور بعض جگہ پر ہندوستان کے افسروں نے پاکستان کے پناہ گزینوں کی تلاشیاں لیں۔ہندوستانی یونین نے احتجاج کیا اور پاکستان کے وزیر خارجہ نے اپنے افسروں کو سخت تنبیہ کی کہ آئندہ ایسا نہیں ہونا چاہئے اس کے برخلاف ہندوستانی یونین جو حد سے زیادہ تکلیف دینے والی تلاشیاں مسلمان پناہ گزینوں کی لیتی تھی اور لیتی ہے قادیان سے چلنے والے لڑکوں کی بعض دفعہ چھ چھ گھنٹہ تک متواتر تلاشی لی جاتی رہی ہے اگر آٹھ دس ٹرک کی چھ گھنٹے تک تلاشی لی جائے تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ پچاس ساٹھ ہزار کے قافلہ کی دو تین ماہ تک متواتر تلاشی کی جانی چاہئے۔جالندھر اور لدھیانہ کے مسلمانوں کو بھی اور فیروز پور کے پناہ گزینوں کو بھی اسی طرح دکھ دیا گیا لیکن اس کے متعلق ہمارے علم میں پاکستانی حکومت نے کوئی احتجاج نہیں کیا۔اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ ایک طرف تو مسلمانوں میں بددتی پیدا ہوگی کہ ہمارے حقوق کی حفاظت کا خیال نہیں رکھا جاتا اور دوسری طرف سیاسی طور پر ہندوستانی یونین کو اپنے حقوق منوانے کے متعلق ایک فوقیت حاصل ہو جائے گی۔یہ خاموشی سیاسی دنیا میں ہرگز اخلاق نہیں کہلائے گی بلکہ کمزوری کہلائے گی اور ہتھیار رکھنے کے مترادف سمجھی جائے گی۔اسی طرح پاکستانی حکومت اور ہندوستانی یونین میں یہ معاہدہ ہوا تھا کہ ایک دوسرے ملک