انوارالعلوم (جلد 18) — Page 618
انوار العلوم جلد ۱۸ ۶۱۸ ایک آیت کی پر معارف تفسیر یہ فقرہ نامکمل رہے گا۔پھر چونکہ“ کا لفظ بھی اسی طرح کا ہے اور جس فقرہ میں یہ لفظ استعمال ہوگا اس کے آگے اسی فقرہ میں اس کا جواب بھی ہونا چاہئے۔مثلاً کوئی شخص کہے کہ چونکہ میرے پاس روپیہ نہ تھا اور اس کے بعد وہ چپ ہو جائے تو اس فقرہ کے کوئی معنی نہیں ہو سکتے اس لئے یہ فقرے اس طرح ہوں گے کہ جس طرح تمہارے ساتھ فلاں معاملہ گزرا تھا اسی طرح زید کے ساتھ بھی یہ معاملہ گزرا یا چونکہ میرے پاس روپیہ نہ تھا اس لئے میں سامان نہ خرید سکا۔پس جس فقرہ کے اندر جس طرح اور چونکہ“ کے الفاظ آجائیں ان کا جواب بھی ضروری ہوتا ہے ورنہ وہ فقرہ بالکل بے معنی ہو جاتا ہے۔,, ابن حیان بڑے نحوی آدمی تھے ان کا ذہن اس آیت کے معنوں میں مشکل پیش آنے پر اس طرف گیا کہ اس میں کچھ حصہ محذوف ہے اور اس کیلئے جب انہوں نے دعائیں کیں تو اللہ تعالیٰ نے انہیں نَر کا لفظ بتایا اور انہوں نے اسی کے مطابق معنی کر دئیے لیکن اپنے زمانہ کی کم مشکلات اور شدت اعتراض نہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے اس پر زیادہ غور نہ کیا اس لئے اُنہوں نے نَصْرَگ کو هُمْ يَنْظُرُونَ کے بعد لگایا ہے یعنی هُمْ يَنظُرُونَ نَصْرَكَ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو صرف اتنا بتایا تھا کہ نَصْرَگ کا لفظ محذوف ہے یہ نہیں بتایا تھا کہ یہ کونسے مقام پر چسپاں ہوتا ہے مگر انہوں نے نَصْرَکَ کو هُمْ يَنْظُرُونَ کے بعد رکھ دیا۔در حقیقت اللہ تعالیٰ ہر زمانے کے لوگوں پر اپنے فضل نازل کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے علامہ ابن حیان کو تو بتایا کہ اس آیت میں نَصْرَگ کا لفظ محذوف ہے مگر میں نے جب اس آیت پر غور کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ انکشاف فرمایا کہ یہاں خالی نَصْرَكَ محذوف نہیں بلکہ اس کے ساتھ عَلی اَعْدَ آئِک بھی ہے یعنی تیرے دشمنوں پر تیرا غلبہ۔ان الفاظ کو اس آیت میں لگانے سے یہ مشکل حل ہو جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔كما اخرجك رَبُّكَ مِنْ بَيْتِكَ بِالْحَقِّ وَاتٌ فَرِيقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ تكْرِهُون یعنی چونکہ تیرے رب نے تجھے تیرے گھر سے حق کے ساتھ نکالا تھا اس لئے ضروری تھا کہ وہی تجھے تیرے دشمنوں پر غلبہ بھی عطا فرما تا۔یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ جس نے گھر سے آپ کو نکالا تھا اُسی پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی تھی کہ وہ آپ کو دشمنوں پر غلبہ عطا فر ما تا۔