انوارالعلوم (جلد 18) — Page 617
انوار العلوم جلد ۱۸ ۶۱۷ ایک آیت کی پُر معارف تفسیر ہے ، وہ فطرت کے مطابق چلتے تھے۔جب وہ اس آیت پر پہنچے تو اُن کو یہ آیت چبھی اور اُنہوں نے اس پر غور کیا مگر کچھ سمجھ میں نہ آیا۔آخر انہوں نے خدا تعالیٰ کے حضور دعائیں کیں کہ اے اللہ ! یہ مشکل مجھ سے تو حل نہیں ہو سکتی اب تو ہی بتا کہ اس آیت کا کیا مفہوم ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ جب میں نے اللہ تعالیٰ سے بہت دعائیں کیں تو مجھے رویا میں بتایا گیا کہ یہاں نَضَرَکَ کا لفظ محذوف ہے اور انہوں نے اسی کے مطابق معنی کر دیئے لیکن چونکہ اُس زمانہ میں اسلام غالب تھا اور اسلام پر دشمنوں کی طرف سے اعتراضات نہ ہوتے تھے اس لئے انہوں نے اس تھوڑے سے حل پر ہی اکتفا کر لیا اور سمجھنے لگ گئے کہ اب یہ مشکل حل ہوگئی ہے۔مگر اب ہمارے سامنے دشمن کے اعتراضات کے انبار لگے ہیں اور دشمنوں نے قرآن کریم کے ہر ایسے مقام پر جہاں پرانے مفسرین کو معنی کرنے میں مشکل پیش آتی تھی اعتراض کر دیئے ہیں۔پُرانے زمانہ کے عیسائی تو قرآن کریم نہ پڑھتے تھے اس لئے وہ اعتراض نہیں کر سکتے تھے لیکن اب بیسیوں عیسائیوں نے قرآن کریم کا ترجمہ کیا اور تفسیر میں لکھی ہیں اور وہ ایسے مقامات پر جی بھر کے اعتراض کرتے ہیں اس لئے جس رنگ میں آجکل اسلام کے خلاف اعتراضات ہوتے ہیں اُس زمانہ میں نہ تھے اسی لئے ان مفسرین کے لئے یہ دقتیں بھی نہ تھیں جو ہم کو اس زمانہ میں پیش آ رہی ہیں۔پرانے مفسرین کے سامنے چونکہ اعتراضات نہ ہوتے تھے اس لئے وہ لفظی ترجمہ کر کے یا کسی آیت کے متعلق دقت پیش آنے پر اس کے ایک ٹکڑے کوحل کر کے گزر جاتے تھے مگر اس زمانہ میں جب عیسائیوں نے قرآن کریم کو پڑھا اور اس کے ترجمے کئے تو انہوں نے اس قسم کے مقامات پر پہنچ کر بے شمار اعتراضات کر ڈالے اور بال کی کھال اُتار لی۔عربی زبان کی یہ خصوصیت ہے بلکہ قرآن کریم کے عربی زبان میں نازل ہونے کی وجہ ہی یہی ہے کہ اس کے اندر بہت سے الفاظ محذوف ہیں اور اس اختصار کی وجہ سے تھوڑی سی عبارت میں بہت بڑے مضامین بیان کر دیئے گئے ہیں۔اگر انسان محذوف عبارت کی طرف توجہ نہ کرے تو وہ سخت مشکل میں پڑ جاتا ہے۔مثلاً گما کا ترجمہ ”جس طرح بھی ہے اور چونکہ بھی اور جس طرح اور چونکہ ایسے الفاظ ہیں کہ اگر ان کا جواب نہ آئے تو دوسرا فقرہ چل ہی نہیں سکتا۔مثلاً ہم اگر یہ کہیں کہ جس طرح تمہارے ساتھ فلاں معاملہ گزرا تھا اور اتنا کہ کر ہم چپ ہو جائیں تو