انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 619 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 619

انوارالعلوم جلد ۱۸ ۶۱۹ ایک آیت کی پُر معارف تفسیر رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں جب تم کوئی ایسا کام اپنے غلام کے سپر دکر و جو اُس کی طاقت سے باہر ہو تو تمہارا فرض ہے کہ اس کی مدد کرو اور اس کام میں اس کا ہاتھ بٹاؤ۔اگر ایک انسان پر یہ فرض ہے جو محدود طاقت رکھتا ہے کہ وہ اگر اپنے غلام کو کوئی ایسا کام سپر د کرے جو اُس کی طاقت سے بالا ہو تو اُس کام میں اس کا ہاتھ بٹائے تو خدا جو بہت بڑی اور بے شمار طاقتوں کا مالک ہے اُس پر اس بات کی کیوں ذمہ داری عائد نہیں ہوگی۔اگر وہ کوئی ایسا کام اپنے بندے کے سپرد کرے جو اُس کی طاقت سے بالا تر ہو تو اس کی مدد بھی فرمائے۔اس طرح اس آیت کے یہ معنی ہوں گے کہ چونکہ تیرے رب نے تجھے دشمنوں کے مقابلہ کے لئے تیرے گھر سے نکالا اس لئے لازمی تھا کہ وہ تیری مدد بھی کرتا اور تجھے دشمن پر غلبہ عطا کرتا۔ان معنوں میں کسی قسم کی الجھن نہیں رہ جاتی اور مطلب بالکل صاف اور واضح ہو جاتا ہے۔صلى الله ہم دیکھتے ہیں کہ بدر کے موقع پر صحابہ ۳۱۳ کی تعداد میں نکلے تھے اگر وہ بجائے ۳۱۳ کے چھ یا سات سو کی تعداد میں نکلتے اور وہ صحابہ بھی شامل ہو جاتے جو مدینہ میں ٹھہر گئے تھے تو لڑائی ان کے لئے زیادہ آسان ہو جاتی مگر خدا تعالیٰ نے محمد رسول اللہ ﷺ کو تو اس جنگ کے متعلق بتا دیا لیکن ساتھ ہی منع بھی فرما دیا کہ جنگ کے متعلق کسی کو بتانا نہیں اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ بعض گزشتہ پیشنگوئیوں کو پورا کرنا چاہتا تھا مثلاً صحابہ کی تعداد تین سو تیرہ تھی اور بائبل میں یہ پیشگوئی موجود تھی کہ جو واقعہ جدعون کے ساتھ ہوا تھا وہی واقعہ محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کو پیش آئے گا اور جب جدعون نبی اپنے دشمن سے لڑے تھے تو ان کی جماعت کی تعداد ۳۱۳ تھی۔اب اگر صحابہ کو معلوم ہو جاتا کہ ہم جنگ کے لئے مدینہ سے نکل رہے ہیں تو وہ سارے کے سارے نکل آتے اور ان کی تعدا د ۳۱۳ سے زیادہ ہو جاتی۔اسی حکمت کے ماتحت اللہ تعالیٰ نے اس امر کو مخفی رکھا تا کہ صحابہ کی تعدا د ۳۱۳ سے زیادہ نہ ہونے پائے کیونکہ ۳۱۳ صحابہ کا جانا ہی پیشگوئی کو پورا کر سکتا تھا اس لئے ضروری تھا کہ جنگ کی خبر کو مخفی رکھا جاتا اور میدانِ جنگ میں پہنچ کر صحابہ کو بتایا گیا کہ تمہارا مقابلہ لشکرِ قریش سے ہوگا۔اللہ نے اس آیت میں كما اخرجك ربك کہہ کر بتا دیا کہ رسول کریم ﷺ کا مدینہ سے نکلنا خدا کے حکم کے ماتحت تھا نہ کہ اپنے طور پر۔اب آگے جو اتٌ فَرِيقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ لكَرِهُونَ