انوارالعلوم (جلد 18) — Page 544
انوارالعلوم جلد ۱۸ ۵۴۴ وحشی اور غیر متمدن اقوام میں بیداری کی ایک زبر دست اہر میں یہ کام کس طرح کر سکتا ہوں۔پیچھے سے اس کے دوست اُسے چٹکیاں کاٹیں کہ جس قدر خوشامد کر سکتے ہیں کریں ورنہ ناک کٹ جائے گی اور دوسری پارٹی جیت جائے گی۔اس پر چوہدری صاحب پھر منتیں کرنے لگے کہ دیکھو اس وقت میری عزت صرف تمہارے ہاتھ میں ہے میں جو کچھ کہتا ہوں اسے مان لو۔اُس نے کہا چوہدری صاحب ! آپ بزرگ آدمی ہیں اور آپ کی عزت میرے دل میں بہت ہے مگر دیکھئے مجھے تپ چڑھا ہوا ہے میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں وہ پھر اس کی خوشامد میں منتیں کرنے لگے دوست بھی اسے بار بار اشارہ کریں کہ جو کچھ لجاجت ہو سکتی ہے کر لو ورنہ کام خراب ہو جائے گا۔اس بے چارے نے پھر خوشامد میں شروع کر دیں آخر نمبر دار کہنے لگا رات کو میں اپنے ساتھیوں کو بلاؤں گا اور آپ کی بات پر غور کروں گا اس وقت تو میں کچھ نہیں کر سکتا اس کے دوست کہنے لگے یہ رات کا مشورہ محض بہانہ ہے دوسری پارٹی سے ان کا سو دا ہو رہا ہے اس لئے جو کچھ طے کرنا ہے ابھی طے کر لو چنانچہ تنگ آ کر چوہدری صاحب نے اُس چوہڑے کے پیر دبانے شروع کر دیئے اور بار بار کہیں چوہدری صاحب ! یہ کام آپ نے ہی کرنا ہے پانچ سات منٹ اپنے پاؤں دبوا کر وہ چوڑھا کہنے لگا اچھا پھر آپ کی خاطر میں یہ بات مان لیتا ہوں ووٹ آپ کو ہی دیئے جائیں گے تو دیکھو وَ اِذَا الْوُحُوشُ حُشِرَتْ کی پیشگوئی کس شان اور عظمت کے ساتھ پوری ہوئی ہے کہ وہ اقوام جن کا سٹرکوں پر چلنا بھی دشوار تھا آج ان کے افراد حکومت کے کاموں میں شریک ہو رہے ہیں۔یہی معنی اس آیت کے تھے کہ وَإِذَا الْوُحُوشُ حُشِرَتْ ایک زمانہ ایسا آنے والا ہے جس میں تمام کی تمام وحشی اور ادنیٰ اقوام بیدار ہو جائیں گی اور ان میں بھی زندگی کے آثار نظر آنے لگ جائیں گے۔یہ تو ہندوستان کا حال ہے۔بیرونی ممالک میں سے افریقہ کے باشندے ایسے ہیں جو تہذیب و تمدن سے کوسوں دور تھے اور جن میں ہزاروں سال سے کوئی بیداری نہیں پائی جاتی تھی۔تہذیب کا لہریں مارتا ہوا در یا جب افریقہ کی سنگلاخ زمین تک پہنچتا تو یوں معلوم ہوتا کہ وہ دریا اُس کی ریت میں غائب ہو گیا ہے۔چنانچه ۱۸۷۲ ء تک مسلمان پہلو بہ پہلو ر ہتے ہوئے اس میں داخل نہ ہو سکے اور انہوں نے یہاں کی جہالت اور تاریکی کو دور کرنے کی کوئی کوشش نہ کی ، بیشک عیسائیت نے اس طرف رُخ کیا مگر