انوارالعلوم (جلد 18) — Page 543
انوار العلوم جلد ۱۸ ۵۴۳ وحشی اور غیر متمدن اقوام میں بیداری کی ایک زبر دست اہر لطیفہ مشہور ہے کہ کسی شہر میں میونسپل کمیٹی کے الیکشن کے موقع پر ایک معز ز زمیندار کو اس کے دوستوں نے مشورہ دیا کہ آپ بھی الیکشن کے لئے کھڑے ہو جائیں۔پہلے تو اُس نے انکار کیا اور کہا کہ میں کھڑا نہیں ہوتا مگر آخر دوستوں کے اصرار پر کھڑا ہو گیا اور چونکہ وہ رئیس تھا سمجھتا تھا کہ مجھے کامیابی میں کوئی مشکل پیش نہیں آ سکتی جب وہ الیکشن کے لئے کھڑا ہوا تو مخالفوں نے اُس کے مقابلہ میں ایک اور امیدوار کھڑا کر دیا اور آخر اسے اپنے مخالف کی طاقت بڑھتی ہوئی محسوس ہوئی اس زمیندار کے دوست اس کے پاس آئے اور کہا کہ یہ تو ذلت کی بات ہے کہ آپ رہ جائیں اور مخالف کامیاب ہو جائے۔اُس نے کہا کہ میں تو پہلے ہی کھڑا نہیں ہونا چاہتا تھا تمہارے زور دینے پر کھڑا ہو گیا۔انہوں نے کہا چاہے کچھ ہو اب تو عزت کی بات ہے ہمیں اپنا سارا زور صرف کر دینا چاہئے کہ مخالف کا میاب نہ ہو۔چنانچہ انہوں نے خوب کوشش کی اور ووٹ حاصل کئے مگر پھر بھی دس پندرہ ووٹوں کی کمی محسوس ہوئی آخر انہیں معلوم ہوا کہ ۱۸ ووٹ چوہڑوں کے رہتے ہیں اگر وہ ہمیں مل جائیں تو ہماری کامیابی یقینی ہو جاتی ہے۔اتفاق کی بات ہے اُس زمیندار کے ہاں جو چوڑھا کام کرتا تھا وہی چوہڑوں کا نمبر دار تھا جب اُس کے دوستوں نے کہا کہ یہ چوڑھوں کے اٹھارہ ووٹ کسی طرح حاصل کر لیں تو زمیندار کہنے لگا یہ تو کوئی مشکل بات ہی نہیں میں ابھی نمبر دار کو بلاتا ہوں۔چنانچہ اُس نے بلانے کے لئے آدمی بھجوایا اُس نے کہہ بھیجا کہ چوہدری صاحب میری طبیعت خراب ہے میں اس وقت آ نہیں سکتا حالانکہ واقعہ یہ تھا کہ دوسری پارٹی اُس سے سودا کر رہی تھی۔آخر پھر اُس کے دوست آئے اور کہا کہ جس طرح بھی ہو یہ ووٹ حاصل کریں ورنہ ہماری کوئی عزت نہیں رہے گی اُس نے پھر پیغام بھیجا کہ مجھے ایک ضروری کام ہے جلدی آؤ اور مجھ سے مل جاؤ مگر چوہڑوں کے نمبر دار نے پھر اپنے گھر سے ہی کہلا بھیجا کہ میری طبیعت اچھی نہیں میں نہیں آسکتا۔جب اسی طرح کئی بار ہوا تو دوستوں نے کہا اب بلانے کا وقت نہیں آپ خود اُس کے پاس پہنچیں۔چنانچہ چوہدری صاحب اپنے دوستوں کو ساتھ لے کر پنڈورے پہنچے دیکھا تو وہ اندر چار پائی پر لیٹا ہوا تھا اور اُس نے لحاف اوڑھا ہوا تھا۔چوہدری صاحب گئے اور منتیں کرنے لگے کہ اس وقت میں بڑی مشکل میں گرفتار ہو گیا ہوں تم پنڈورے کے سارے ووٹ مجھے دلوا ؤ۔وہ کہنے لگا چوہدری صاحب ! دیکھئے میں تو بیمار پڑا ہوں