انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 545 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 545

انوارالعلوم جلد ۱۸ عیسائیوں نے اس لئے رُخ نہیں کیا کہ وہ ان اقوام میں اپنے حقوق کے حصول کے متعلق بیداری پیدا کریں بلکہ اس لئے کہ وہ اقوام عیسائیوں کے پیچھے چلتی چلی جائیں یہی وجہ ہے کہ عیسائیت کے ماتحت سو سال میں بھی افریقن لوگوں میں بیداری پیدا نہیں ہوئی۔یہ حالات اسی طرح چلتے چلے آ رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے وَإِذَا الْوُحُوشُ حُشِرَتْ کی پیشگوئی پورا کرنے کے لئے ہمارے دل میں تحریک پیدا کی کہ ہم اپنے مبلغ افریقہ میں بھجوائیں چنانچہ نائیجریا، گولڈ کوسٹ اور سیرالیون میں ہم اپنے مشن قائم کر چکے ہیں اور اب لائبیریا اور کچھ فرنچ علاقے ایسے ہیں جن میں مبلغ بھجوائے جائیں گے۔اسی طرح مغربی افریقہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسی بیداری پیدا ہو رہی ہے کہ جس کی مثال پہلے کسی زمانہ میں نہیں ملتی۔ابھی تھوڑا ہی عرصہ ہوا چرچ آف انگلینڈ نے ایک کمیشن اس غرض کے لئے مقرر کیا تھا کہ وہ یہ تحقیق کرے کہ کیا وجہ ہے افریقہ میں عیسائیت کی ترقی رُک گئی ہے۔اس کمیشن نے جو رپورٹ پیش کی اس میں چالیس جگہ یہ ذکر کیا گیا ہے کہ عیسائیت کی ترقی کا رُکنا محض اس وجہ سے ہے کہ افریقہ میں احمد یہ مشن کثرت سے پھیل گئے ہیں اور ان کا ۵۴۵ وحشی اور غیر متمدن اقوام میں بیداری کی ایک زبر دست اہر مقابلہ عیسائیت سے نہیں ہوسکتا۔پس اللہ تعالیٰ کا یہ ایک بہت بڑا فضل اور احسان ہے کہ اس نے وَاِذَا الْوُحُوشُ حُشِرَتْ کی پیشگوئی کو پورا کرنے کا ہمیں بھی ایک ذریعہ بنالیا اور ایسے زمانہ میں بنایا جب کہ ہماری تعداد صرف چند لاکھ ہے ہمارے مقابلہ میں دوسرے مسلمانوں کی تعداد چالیس کروڑ ہے۔چالیس کروڑ بدھ ہیں، تمہیں کروڑ ہندو ہیں اور یہ لوگ اگر چاہتے تو اس طرف توجہ کر سکتے تھے مگر نہ چالیس کروڑ مسلمانوں کو اس امر کی توفیق ملی کہ وہ افریقہ کی اقوام کو تہذیب وشائستگی سے آشنا کریں، نہ چالیس کروڑ بدھوں کو اس امر کی توفیق ملی ، نہ تمیں کروڑ ہندوؤں کو اس امر کی توفیق ملی کہ وہ ان ادنی اقوام کو اُٹھانے کی کوشش کریں، تو فیق ملی تو ہماری جماعت کو۔چنانچہ ہماری جماعت کی طرف سے افریقہ میں متعدد مدارس کھل چکے ہیں اور افریقن لوگوں میں بیداری کے آثار نظر آ رہے ہیں۔بہر حال وَاِذَا الْوُحُوشُ حُشِرَت کی پیشگوئی ایک ایسی پیشگوئی ہے جس کے ظہور کی مثال اس سے پہلے اور کسی زمانہ میں نہیں ملتی اور پھر ایک زائد بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس بات کی توفیق عطاء فرمائی کہ ہم اس پیشگوئی کو پورا کرنے والے بنیں۔اس طرح وہ