انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 461 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 461

۴۶۱ ہمارے ذمہ تمام دنیا کو فتح کرنے کا کام ہے انوار العلوم جلد ۱۸ صرف اور صرف محمد ﷺ کی نقل سے کام ہے۔وہ لوگ جو دائیں بائیں دیکھتے ہیں وہ کمزور ایمان والے بلکہ بے ایمان ہوتے ہیں تم ان کی پیروی مت کرو تمہیں چاہئے کہ جہاں کہیں خدا تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرورت ہو تم خود وہاں پہنچو اور اکیلے کام کرو۔جب تم میں یہ جذبہ ایثار پیدا ہو جائے گا تو یا درکھو اگر تم اکیلے کام کر رہے ہو گے تو خدا تعالیٰ خود تمہاری مدد کرے گا اور پھر بڑے سے بڑا کام بھی تمہارے لئے مشکل نہ رہے گا۔تم جہاں جاؤ گے فتح و نصرت تمہارے قدم چومے گی اور تم ہر جگہ سے کامیاب اور کامران واپس لوٹو گے ، اس کے ساتھ ہی تمہارے درجات بلند ہوں گے اور خدا تعالیٰ کا قرب تمہیں حاصل ہوگا۔یہ بالکل ویسی ہی مثال ہے کہ اگر دوسرے مزدور کسی کام کو مل کر کریں تو اس کام کی مزدوری بٹ جائے گی اور اگر کوئی شخص اکیلا اس کام کو کرے تو مزدوری بڑھ جائے گی اور جو نصف مزدوری اس کے ساتھی کو ملتی وہ اس اکیلے کو مل جائے گی۔کیا تم چاہتے ہو کہ وہ ثواب جو سارے کا سارا تمہیں ملنے والا ہو وہ کئی حصوں میں تقسیم ہو جائے اور تمہارے حصہ میں بالکل تھوڑا سا آئے۔اس کے علاوہ جماعت کو چاہئے کہ وہ تجارتی اور صنعتی اور فنی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے کیونکہ یہ چیزیں بھی قومی یا جماعتی ترقیات میں مد ہوا کرتی ہیں۔میری رائے یہ ہے کہ یہاں دہلی کے ہر محلہ میں ایک احمدی کی دکان ہونی چاہئے یہ ضروری نہیں کہ بہت بڑی دکان ہو کام چلانے کے لئے معمولی سرمایہ سے بھی دکان کھولی جاسکتی ہے۔اس کے علاوہ کچھ لوگوں کومل کر تھوڑے سے تھوڑے روپیہ سے کمپنیاں کھولنی چاہئیں ان کا یہ فائدہ ہو گا کہ مضافات کے مزدور پیشہ لوگ تمہاری طرف کھنچے چلے آئیں گے۔میرا خیال ہے بلکہ یقین ہے کہ اگر ان دونوں تجاویز پر عمل ہو جائے کہ ہر محلہ میں ایک احمدی دُکان کھول لے اور کچھ لوگ تھوڑے تھوڑے روپیہ سے کمپنیاں کھول لیں تو تبلیغ کا میدان نہایت وسیع ہو جائے گا کیونکہ دکان بھی ایک ایسی چیز ہے جہاں ہر قسم کے گاہک آتے ہیں اور اُن کو کسی نہ کسی رنگ میں تبلیغ کی جاسکتی ہے۔اسی طرح کمپنیاں اس سے بھی زیادہ مفید ہیں کیونکہ وہاں مزدور بھی آئیں گے اور رئیس بھی آئیں گے، ان پڑھ بھی آئیں گے اور پڑھے ہوئے بھی آئیں گے ، غرباء کام کرنے کے لئے آئیں گے اور امراء سامان خریدنے کے لئے ، اسی طرح ہر طبقہ کے لوگوں سے تعلقات