انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 462 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 462

انوار العلوم جلد ۱۸ ۴۶۲ ہمارے ذمہ تمام دنیا کو فتح کرنے کا کام ہے بڑھ جائیں گے اور اس طرح تم گھر بیٹھے فریضہ تبلیغ کو سرانجام دے سکو گے۔یہ بات بھی یا درکھنے کے قابل ہے کہ جتنی جلدی غربا ء صداقت کو تسلیم کرتے ہیں اتنی جلدی امراء کبھی نہیں کرتے کیونکہ امراء کے اندر خودی ، تکبر اور رعونت پایا جاتا ہے ، وہ کبھی خلوص دل سے صداقت کی باتوں کو نہیں سنتے۔اس کے برعکس غرباء میں تکبر نہیں ہوتا اس لئے وہ ہر بات سُن کر اُس پر ٹھنڈے دل سے غور کر لیتے ہیں اور اگر ان کو کسی بات میں ذرا سی سچائی بھی نظر آ جائے تو وہ اسی پر گرہ باندھ لیتے ہیں کوئی ہزار اُن کو ورغلانے کی کوشش کرے وہ سچائی کو کبھی نہیں چھوڑتے۔پس کمپنیوں کا قیام نہایت ضروری چیز ہے دنیوی فوائد کے ساتھ ہی ساتھ بہت سے دینی فوائد بھی اس میں مضمر ہیں۔آجکل جو حالات پیش آ رہے ہیں ان کو مدنظر رکھتے ہوئے خیال کیا جاسکتا ہے کہ یہاں دہلی کے اردگرد کے دیہات کے مسلمانوں کو جو نہایت ہی غریب ہیں اپنے گاؤں میں رہنا مشکل ہو جائے گا اور وہ سب بڑے شہروں کا رُخ کریں گے اس وقت تمہارا فرض ہو گا کہ ان کے لئے جگہ پیدا کر دو جس طرح مدینہ والوں نے مہاجرین مکہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا تھا ہم اپنی آدھی جائداد میں تم کو دے دیتے ہیں اور آدھی اپنے پاس رکھتے ہیں تمہیں کس بات کا غم ہے ہم اور تم مل جل کر گزارہ کریں گے۔اُدھر مہاجرین بھی قربانی کرنے والے لوگ تھے وہ بھی انصار کو زیادہ تنگ نہ کیا کرتے تھے بلکہ رات کو مسجدوں میں سو کر گزارہ کر لیا کرتے تھے۔ایک صحابی کہتے ہیں کہ ہم ایک ایک وقت میں سو سو آدمی مسجدوں میں رہتے تھے ادھر مدینہ والوں نے بھی اپنے مہمانوں کی خاطر اپنے گھروں کو سرائیں بنا دیا تھا۔ان لوگوں میں اُس وقت ایک ہی جس کام کر رہی تھی اور وہ یہ کہ جس طرح ہو سکے رسول کریم اسلام کی حفاظت کی جائے اور انہوں نے خدا تعالیٰ کے فضل سے کر کے دکھا دی۔کیا یہ چھوٹی سی قربانی ہے کہ کوئی شخص کسی ایسے آدمی کو جو نہ اس کا حقیقی رشتہ دار ہو نہ اس کا دوست ہو اور نہ اس کا کوئی دور کا بھی تعلق یا واسطہ اُس کے ساتھ ہو صرف اور صرف اسلام کی خاطر اپنی جائداد بانٹ کر نصف اُس کو دے دے۔یہاں دہلی کے اردگرد مسلمانوں کی حالت بھی نہایت نازک ہے تمہیں چاہئے کہ ان میں وسیع پیمانے پر تبلیغ کرو۔انہیں کام اور محنت کرنے کی ترغیب دی جائے اور انہیں یہاں لا کر کام پر لگاؤ۔اس کے علاوہ یہ بھی ضروری ہے کہ یہاں ہر گلی میں ہرفتم